آٹو سیکٹر میں 10 لاکھ ملازمتوں پر لٹک رہی تلوار، پرینکا گاندھی کا اظہارِ فکر

مودی حکومت میں ملک کا ہر سیکٹر بے حال ہے۔ نوجوانوں کو ملازمتیں نہیں مل رہی ہیں بلکہ ملازمتیں دھیرے دھیرے ختم ہی ہوتی جا رہی ہیں۔ اب آٹو سیکٹر میں 10 لاکھ ملازمتوں پر خطرہ منڈلا رہا ہے۔

پرینکا گاندھی
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

ملک میں ملازمتوں پر منڈلاتے خطرے کو لے کر کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے فکر کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے ٹوئٹ کر کہا ہے کہ ’’آٹو سیکٹر میں 10 لاکھ لوگوں کی ملازمت پر خطرہ ہے۔ یہاں کام کر رہے لوگوں کو اپنی روزی روٹی سے نئے ٹھکانے ڈھونڈنے پڑیں گے۔ ختم ہوتے روزگار، کمزور پڑتی تجارت اور معیشت کی کمر توڑنے والی پالیسی پر بی جے پی حکومت کی خاموشی سب سے زیادہ خطرناک ہے۔‘‘

ملک میں ہر سیکٹر کا حال برا ہے۔ نوجوانوں کو ملازمتیں نہیں مل رہی ہیں، بلکہ ملازمتیں دھیرے دھیرے ختم ہی ہوتی جا رہی ہیں۔ اس درمیان آٹو سیکٹر سے بری خبر آئی ہے۔ آٹو سیکٹر میں 10 لاکھ ملازمتوں پر خطرہ منڈلا رہا ہے۔ مودی حکومت کے تازہ فیصلے سے آٹو سیکٹر میں بحران کی کیفیت ہے۔ کمپنیوں نے پروڈکشن کم کر دیا ہے۔


دراصل گاڑیوں اور ان کے پارٹس پر 28 فیصد جی ایس ٹی لگتا ہے۔ اس سے گاڑیوں کا پروڈکشن ویلیو کافی بڑھ جاتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پچھلے 6 مہینوں سے ملک میں گاڑیوں کی فروخت میں لگاتار گراوٹ درج کی گئی ہے۔ ایسے میں پروڈکشن کم ہوتے ہی ملک بھر میں کئی شو روم بھی بند ہو گئے ہیں۔ آٹو سیکٹر میں موجود حالت یہ ہے کہ کمپنیوں کے پاس جو پہلے کا اسٹاک تھا وہ بھی بازار میں فروخت نہیں ہو پا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں کئی کمپنیوں نے پروڈکشن تقریباً بند کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کمپنیوں نے اپنے ملازمین کو چھٹی پر بھیج دیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق آٹو سیکٹر ملک کے 50 لاکھ لوگوں کو روزگار دیتا ہے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔