اورنگ آباد: کورونا متاثرین کے لئے نعمت ثابت ہو رہی ’بارون‘ کی آکسیجن گیس سلینڈر ریفلنگ یونٹ

شروعاتی دور میں کافی مشکلات پیش آئی تھیں اور خام مال کی قلت کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور جھارکھنڈ کے بوکارو سے رامیٹریل منگواتے رہے ۔

علامتی تصویر آئی اے این ایس 
علامتی تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

کورونا بحران کے دور میں جہاں چاروں طرف آکسیجن سلینڈر کی قلت ہے وہیں اورنگ آباد ضلع کے بارون میں قائم آکسیجن گیس سلینڈر ریفلنگ یونٹ اورنگ آباد اور آس پاس کے اضلاع میں آکسیجن کی کمی کو پورا کرنے میں مدد گار ثابت ہورہاہے ۔

اس یونٹ سے ریفل ہوئے آکسیجن سیلنڈر اورنگ آباد اور آس پاس کے سرکاری اور نجی اسپتالوں میں بھیجے جارہے ہیں اور وہاں کی ضرورتوں کو پورا کرنے میں یہ یونٹ مدد گار ثابت ہورہاہے ۔ اس سے اس وبا کے دوران آکسیجن کی دستیابی سے لوگوں کو بہت بڑی راحت مل رہی ہے ۔


نوادہ ضلع باشندہ بھولا وشو کرما نے سال 2016 میں بارون میں میڈیکل آکسیجن گیس سیلنڈر ریفلنگ یونٹ قائم کیا تھا ۔ شروعاتی دور میں انہیں کافی مشکلات پیش آئی تھیں اور خام مال کی قلت کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور جھارکھنڈ کے بوکارو سے رامیٹریل منگواتے رہے ۔ کورونا کے دور ان جب آکسیجن کی کمی ہونے لگی تو ان کا صنعتی یونٹ انتظامیہ اور عام لوگوں کیلئے عظیم نعمت ثابت ہوئی ۔ آج ان کی ریفل اکائی کی صلاحیت 500 آکسیجن سلینڈر روزانہ دستیاب کرانے کی ہے اور ابھی لگ بھگ 300 آکسیجن سلینڈر روزانہ بھیج رہے ہیں۔

مسٹر وشوکرمانے کہاکہ اگر انتظامیہ کا تعاون اسی طرح سے ملتا رہا اور را مٹیریل بلا توقف دستیاب رہا تو اس یونٹ کی صلاحیت اور بھی زیادہ بڑھائی جاسکتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کورونا مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہاہے ۔ ایسے میں اسپتال سے لیکر ہوم آئیسولیشن تک کے مریضوں کو آکسیجن سلینڈر کی ضرورت پڑ رہی ہے ۔ اس سے طلب اور کھپت دونوں بڑھی ہے ۔


انہوں نے بتایاکہ ضلع انتظامیہ کی ہدایت کے مطابق اورنگ آباد ضلع کے علاوہ سہسرام واقع نارائن میڈیکل کالج اسپتال سمیت بھبھوا اور گیا میں بھی طلب کے مطابق آکسیجن سیلینڈربھیجے جارہے ہیں۔ دریں اثناءضلع مجسٹریٹ سوربھ جوروال نے کہاکہ اورنگ آباد ضلع میں آکسیجن کی کوئی قلت نہیں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ضلع انتظامیہ ضرورت کے مطابق کووڈ مریضوں کو آکسیجن دستیاب کرانے کیلئے اہل ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 23 Apr 2021, 10:40 PM