اتراکھنڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی کے لیک پرچوں کا اگست میں دوبارہ امتحان، اسسٹنٹ پروفیسر گرفتار
دہرادون کے اسسٹنٹ پروفیسر آشیش کمار گپتا کے خلاف پولیس میں مقدمہ درج کرایا گیا اور انہیں ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے۔

اتراکھنڈ کی ویر مادھو سنگھ بھنڈاری اتراکھنڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی (یو ٹی یو) کے دو سمسٹر پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے میں پولیس نے ایک اسسٹنٹ پروفیسر کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ لیک ہونے والے دونوں پرچوں کا دوبارہ امتحان اگست کے تیسرے ہفتے میں کرایا جائے گا۔ امتحان کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
یونیورسٹی کی وائس چانسلر ڈاکٹر ترپتا ٹھاکر نے بتایا کہ قانونی مشاورت کے بعد شیوالک کالج آف انجینئرنگ، دہرادون کے اسسٹنٹ پروفیسر آشیش کمار گپتا کے خلاف پولیس میں مقدمہ درج کرایا گیا۔ انہیں ملازمت سے برطرف کرنے کے ساتھ آئندہ سات برس کے لیے یو ٹی یو کی تمام امتحانات سے متعلق تمام ذمہ داریوں سے سات برس کے لیے محروم کر دیا گیا ہے۔
تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ ملزم نے "مشین لرننگ فار انٹرنیٹ آف تھنگز" اور "الیکٹرو میگنیٹک فیلڈ تھیوری" کے سوالیہ پرچے امتحان سے قبل یونیورسٹی کے اندرونی پورٹل اور واٹس ایپ کے ذریعے طلبہ تک پہنچائے تھے۔ اس کے بعد دونوں امتحانات منسوخ کر دیے گئے ہیں اور ان کا دوبارہ انعقاد اگست کے تیسرے ہفتے میں کیا جائے گا۔ وائس چانسلر نے کہا کہ اس معاملے میں ملوث تمام افراد کے خلاف سخت اور غیر جانبدار کارروائی جاری رہے گی۔
شیوالک کالج آف انجینئرنگ کے پروفیسر ٹی ایس سدھو نے بتایا کہ معاملہ سامنے آنے کے فوراً بعد متعلقہ استاد کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا گیا اور ان کی سالانہ تنخواہ میں اضافے پر روک لگا دی گئی تھی۔ ادارے اور یونیورسٹی کی مشترکہ تحقیقات میں الزامات درست ثابت ہونے پر ان کی خدمات فوری طور پر ختم کر دی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ امتحانی نظام کی رازداری پر کسی بھی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
دہرادون کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس پرویندر ڈوبھال نے بتایا کہ یو ٹی یو کے کنٹرولر امتحانات کی شکایت پر مقدمہ درج کیا گیا، جس میں بتایا گیا تھا کہ 3 جولائی کو ملزم نے واٹس ایپ گروپ کے ذریعے امتحان سے متعلق اہم سوالات طلبہ کے ساتھ شیئر کیے تھے۔ شواہد، گواہوں کے بیانات اور دستاویزی ثبوتوں کی بنیاد پر ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ اس سے ضبط کیے گئے الیکٹرانک آلات کی جانچ کی جا رہی ہے۔ اس معاملے میں دیگر ممکنہ ملوث افراد کے خلاف بھی تحقیقات جاری ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
