ضمنی اسمبلی انتخابات: دتیا میں تقریباً 72 فیصد ووٹنگ، بانکی پور اور منجل پور میں 35 فیصد سے بھی کم پولنگ

ایم پی کی دتیا اسمبلی نشست پر ضمنی انتخاب میں تقریباً 72 فیصد ووٹنگ ہوئی، جبکہ بہار کی بانکی پور اور گجرات کی منجل پور پر 35 فیصد سے بھی کم پولنگ ریکارڈ کی گئی۔ تینوں نشستوں کے نتائج 3 اگست کو آئیں گے

<div class="paragraphs"><p>بانکی پور ضمنی انتخاب میں ووٹ ڈالنے پہنچے ووٹرز / آئی اے این ایس</p></div>
i

نئی دہلی: مدھیہ پردیش، بہار اور گجرات کی 3 اسمبلی نشستوں پر جمعرات کو ہونے والے ضمنی انتخابات کے لیے ووٹنگ پرامن انداز میں مکمل ہو گئی۔ مدھیہ پردیش کی دتیا اسمبلی نشست پر سب سے زیادہ تقریباً 72 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی، جبکہ بہار کی بانکی پور اور گجرات کی منجل پور نشستوں پر 35 فیصد سے بھی کم پولنگ ہوئی۔

مدھیہ پردیش کی دتیا نشست پر شام 6 بجے تک تقریباً 71.40 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی، جس میں حتمی اعداد و شمار آنے کے بعد معمولی اضافہ ممکن ہے۔ ضلع انتخابی افسر سوپنل وانکھیڑے کے مطابق صبح سے ہی ووٹروں کی اچھی آمد رہی اور پورا انتخابی عمل پرامن ماحول میں مکمل ہوا۔ کسی ناخوشگوار واقعے یا بڑی شکایت کی اطلاع نہیں ملی۔

دتیا نشست پر بھارتیہ جنتا پارٹی نے آشوتوش تیواری کو میدان میں اتارا ہے، جبکہ کانگریس کے امیدوار گھنشام سنگھ ہیں۔ آزاد سماج پارٹی کے دامودر سنگھ یادو سمیت دیگر امیدوار بھی مقابلے میں ہیں۔ یہ نشست کانگریس کے سابق رکن اسمبلی راجیندر بھارتی کی رکنیت ختم ہونے کے بعد خالی ہوئی تھی۔

تاہم ووٹنگ کے دوران کانگریس نے انتظامیہ پر جانبداری کا الزام بھی عائد کیا۔ پارٹی نے دعویٰ کیا کہ رام ساگر کے ایک پولنگ بوتھ سے اس کے پولنگ ایجنٹ کو بلاوجہ پولیس اپنے ساتھ لے گئی تاکہ آزادانہ اور منصفانہ ووٹنگ متاثر ہو سکے۔ دوسری جانب انتخابی حکام نے تمام پولنگ مراکز پر ووٹنگ کے پرامن انعقاد کی بات کہی ہے۔


ادھر بہار کی بانکی پور اسمبلی نشست پر صرف 34.30 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ اسمبلی انتخابات کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔ اس نشست کو خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ بی جے پی کے قومی صدر نتن نوین کی روایتی نشست رہی ہے، جو راجیہ سبھا کے رکن منتخب ہونے کے بعد خالی ہوئی۔ اس بار جن سوراج کے بانی پرشانت کشور کی امیدوار کے طور پر انٹری نے مقابلے کو ہائی پروفائل بنا دیا تھا، تاہم اس کے باوجود ووٹنگ کا تناسب کم رہا۔

ووٹنگ کے دوران پرشانت کشور نے پولیس پر الزام لگایا کہ اس نے حکمراں جماعت کے اشارے پر ان کے حامیوں اور پولنگ ایجنٹوں کو حراست میں لیا۔ اس دوران ان کی پٹنہ کی ایک سینئر پولیس افسر سے تلخ نوک جھونک بھی ہوئی۔ راشٹریہ جنتا دل کی امیدوار ریکھا گپتا نے بھی بی جے پی اور پولیس پر انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کیے۔

گجرات کی منجل پور اسمبلی نشست پر شام پانچ بجے تک 34.35 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی۔ یہ نشست بی جے پی کے سینئر رہنما اور سابق وزیر یوگیش پٹیل کے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی۔ یہاں بی جے پی کے ستیش پٹیل اور کانگریس کے بھیکھا بھائی رباری کے درمیان براہِ راست مقابلہ ہے۔

منجل پور میں مجموعی طور پر ووٹنگ پرامن رہی، تاہم ایک پولنگ اسٹیشن کے باہر بی جے پی اور کانگریس کارکنوں کے درمیان معمولی جھڑپ کی اطلاع ملی، جسے پولیس نے فوری مداخلت کرکے قابو میں کر لیا۔ تینوں اسمبلی نشستوں پر ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی 3 اگست کو ہوگی، جس کے بعد نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔