آسام میں سیلاب کی تباہ کاریاں، ہلاکتوں کی تعداد 87 ہوئی، 11 لاکھ سے زائد افراد متاثر

آسام میں سیلاب سے مرنے والوں کی تعداد 87 ہو گئی ہے جبکہ 11 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہیں۔ 224 امدادی کیمپ قائم ہیں اور حکومت متاثرین کی بازآبادکاری کے ساتھ امدادی کارروائیاں تیز کر رہی ہے

<div class="paragraphs"><p>آسام میں سیلاب کی فائل تصویر / آئی اے این ایس</p></div>
i

گوہاٹی: آسام میں سیلاب کی صورت حال اگرچہ گزشتہ چند دنوں کے مقابلے میں کچھ بہتر ہوئی ہے، تاہم تباہ کاریوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ ریاستی حکام کے مطابق رواں سال سیلاب سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 87 ہو گئی ہے، جبکہ 25 اضلاع میں 11 لاکھ 45 ہزار سے زائد افراد اب بھی متاثر ہیں۔ انتظامیہ نے امدادی سرگرمیوں کے ساتھ متاثرہ علاقوں میں بازآبادکاری کے کام کو بھی تیز کر دیا ہے۔

آسام اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (اے ایس ڈی ایم اے) کے مطابق 29 اپریل سے 3 اگست کے درمیان ریاست کے 25 اضلاع کے 77 ریونیو سرکل اور 2,281 دیہات سیلاب سے متاثر ہوئے۔ اس دوران مجموعی طور پر 11,45,109 افراد کو سیلاب کی تباہ کاریوں کا سامنا کرنا پڑا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ 47 ہلاکتیں شیوساگر ضلع میں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ چرائدیو میں 21، جورہاٹ میں 9، دھیماجی اور گولاگھاٹ میں 3، 3، کاربی آنگلونگ میں 2 جبکہ سونیت پور اور کامروپ میں ایک، ایک شخص کی جان گئی۔ حکام کے مطابق اب بھی چار افراد لاپتا ہیں، جن میں تین شیوساگر اور ایک دھیماجی ضلع کا رہنے والا ہے۔


ریاست میں متاثرین کی مدد کے لیے اس وقت 224 امدادی کیمپ قائم کیے گئے ہیں، جہاں 73 ہزار 74 بے گھر افراد کو پناہ فراہم کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ 1,844 امدادی مراکز کے ذریعے متاثرہ خاندانوں میں ضروری اشیائے خورد و نوش، ادویات اور دیگر امدادی سامان تقسیم کیا جا رہا ہے۔ انتظامیہ نے احتیاطی اقدام کے طور پر 29 ہزار 985 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے۔

سیلاب نے رہائشی املاک کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔ اے ایس ڈی ایم اے کے مطابق اب تک 3,771 مکانات مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں، جبکہ 12,987 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ متعدد سڑکیں، پل اور بنیادی ڈھانچے بھی متاثر ہوئے ہیں، جن کی بحالی کے لیے مختلف محکمے کام کر رہے ہیں۔

وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے کہا ہے کہ ریاستی حکومت امدادی سرگرمیوں کے ساتھ متاثرہ خاندانوں کی بازآبادکاری پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہر متاثرہ خاندان کو معمول کی زندگی کی طرف واپس لانے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی اور نقصانات کے ازالے کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

ریاستی حکومت ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر امدادی سامان کی تقسیم، بنیادی ڈھانچے کی مرمت اور نقصانات کا جائزہ لینے کا کام کر رہی ہے۔ حکام کے مطابق بیشتر علاقوں میں سیلابی پانی اترنے لگا ہے، جس کے بعد بے گھر خاندانوں کی محفوظ واپسی کے اقدامات بھی شروع کر دیے گئے ہیں۔ تاہم انتظامیہ نے شہریوں سے محتاط رہنے کی اپیل کی ہے، کیونکہ بالائی آبی ذخائر میں وقفے وقفے سے ہونے والی بارش کے باعث بعض دریاؤں کے پانی کی سطح دوبارہ بڑھنے کا خدشہ برقرار ہے۔