آسام انتخابات: کیا عوام تبدیلی کے لیے تیار ہیں؟...سوربھ سین
آسام میں بی جے پی کی پالیسیوں پر تنقید، اپوزیشن اتحاد کی کوششیں اور عوامی بے چینی اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ریاست میں تبدیلی کی خواہش تو موجود ہے مگر نتیجہ غیر یقینی ہے

ریاستی کانگریس کے صدر اور رکن پارلیمنٹ گورو گوگوئی کا کہنا ہے کہ ’آسام میں سیاست کبھی اتنی نفرت سے بھری نہیں رہی۔‘ ان کے مطابق فرقہ وارانہ قطبیت کی سیاست نے اس شمال مشرقی ریاست میں ایک نئی حد قائم کر دی ہے، مگر اب حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں جہاں عوام تبدیلی کے لیے تیار دکھائی دیتے ہیں۔
آسام میں 9 اپریل کو 126 رکنی اسمبلی کے لیے انتخابات ہونے جا رہے ہیں، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو ہوگی۔ اس طرح نتائج سامنے آنے میں تقریباً ایک ماہ لگے گا۔ 2021 کے گزشتہ اسمبلی انتخابات میں ریاست میں 82.5 فیصد ووٹنگ ہوئی تھی، جو عوامی دلچسپی کا واضح ثبوت ہے۔
انتخابی ہنگاموں کے دوران، گورو گوگوئی نے ہائی پروفائل دل بدل کے اثر سے خود کو الگ رکھتے ہوئے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما کی پالیسیوں پر مسلسل تنقید جاری رکھی ہے۔ اس بار ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ دل بدل یکطرفہ نہیں رہا؛ انتخابات سے چند ہفتے قبل بی جے پی سے کانگریس میں بھی شامل ہونے کا رجحان دیکھا گیا ہے۔
بی جے پی کے اندرونی فیصلوں سے ناراض ہو کر کئی رہنماؤں نے کانگریس کا رخ کیا، خاص طور پر اس وقت جب ہمنتا بسوا سرما نے کانگریس چھوڑنے والے پردیوت بوردولوئی اور بھوپن بورا جیسے رہنماؤں کو میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا۔ کچھ دیگر لیڈروں نے آزاد امیدوار کے طور پر قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا، جس سے انتخابی مساوات مزید پیچیدہ ہوگئی ہے۔ 11 سابق کانگریسی رہنماؤں کی موجودگی نے بی جے پی کے اندر بے چینی کو بڑھا دیا ہے۔
بی جے پی کے باغی جینتا داس نے خاموشی سے آزاد امیدوار کے طور پر نامزدگی داخل کی۔ انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ انہیں احتیاط برتنی پڑی کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ انہیں روکا جا سکتا ہے یا جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر حراست میں لیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ یہ پہلا موقع ہوگا جب ایک حلقے میں کانگریس کے دو امیدوار ہوں گے—ایک پردیوت بوردولوئی (جنہیں بی جے پی نے ٹکٹ دیا) اور دوسری کانگریس کی سرکاری امیدوار میرا بورتھاکر۔
2021 میں بی جے پی نے 60 نشستیں جیتی تھیں، جبکہ 2016 میں بھی یہی تعداد رہی تھی۔ بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے نے 44.5 فیصد ووٹ شیئر کے ساتھ 75 نشستیں حاصل کیں، جو اپوزیشن کے مہاجوت اتحاد سے معمولی برتری تھی۔ مہاجوت کو 43.7 فیصد ووٹ ملے، مگر وہ صرف 50 نشستیں جیت سکا۔ کانگریس کی کمزور کارکردگی (صرف 29 نشستیں) نے اتحاد کو نقصان پہنچایا۔
اس بار کانگریس نے حکمت عملی بدلتے ہوئے 6 جماعتوں پر مشتمل اتحاد "آسام سنیوکت مورچہ‘ (اے ایس ایم) تشکیل دیا ہے، جس میں رائیجور دل، آسام جاتیہ پریشد، سی پی آئی (ایم)، سی پی آئی (ایم ایل) لبریشن اور آل پارٹی ہل لیڈرز کانفرنس شامل ہیں۔ کانگریس لیڈر حافظ راشد چودھری کا دعویٰ ہے کہ یہ اتحاد اپوزیشن ووٹوں کے بٹوارے کو روکنے میں مؤثر ثابت ہوگا۔
تاہم 2026 کے انتخابات بالکل مختلف حالات میں ہو رہے ہیں۔ 2023 میں حلقہ بندی (ڈیلیمٹیشن) کے بعد مسلم اکثریتی حلقوں کی ساخت بدل دی گئی۔ 2011 کی مردم شماری کے مطابق ریاست میں مسلم آبادی 34 فیصد تھی، جسے بی جے پی نے مقامی آسامیا شناخت کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔ پہلے مسلم ووٹر تقریباً 35 نشستوں پر اثرانداز ہوتے تھے، لیکن نئی حلقہ بندی کے بعد یہ تعداد کم ہو کر 25 رہ گئی ہے۔
کانگریس کے دو سابق اتحادی اس بار الگ ہو گئے ہیں۔ بدرالدین اجمل کی قیادت والی اے آئی یو ڈی ایف نے تنہا الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مسلمانوں کے مسائل پر مؤثر آواز نہ اٹھانے کی وجہ سے پارٹی کمزور پڑ گئی ہے، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں مسلم ووٹر کانگریس کی طرف جھکاؤ دکھا رہے ہیں۔
دوسری طرف، ہاگراما موہیلاری کی قیادت والی بوڈولینڈ پیپلز فرنٹ (بی پی ایف) نے بی ٹی سی انتخابات جیتنے کے بعد این ڈی اے کا رخ کیا ہے۔ حلقہ بندی کے بعد بوڈولینڈ علاقے میں نشستیں 11 سے بڑھ کر 15 ہوگئی ہیں، جہاں بی پی ایف کا خاصا اثر ہے۔ ترنمول کانگریس نے 22 حلقوں میں اور جھارکھنڈ مکتی مورچہ نے 21 امیدوار میدان میں اتارنے کا اعلان کیا ہے، جس کے ممکنہ اثرات پر ماہرین میں اختلاف ہے۔
فروری میں بی جے پی کی آسام یونٹ نے ایک متنازع اینیمیٹڈ ویڈیو جاری کی، جس میں وزیر اعلیٰ کو مسلم افراد پر گولیاں چلاتے دکھایا گیا تھا، ساتھ ہی ’کوئی رحم نہیں‘ اور ’غیر ملکیوں سے پاک آسام‘ جیسے نعرے بھی شامل تھے۔ شدید ردعمل کے بعد ویڈیو ہٹا دی گئی، مگر اس نے سیاسی ماحول کی شدت کو واضح کر دیا۔
سرما کے بیانات نے بھی تنازع کو ہوا دی۔ انہوں نے کھلے عام کہا کہ اگر ’میاں‘ کمیونٹی ریاست چھوڑ دے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا، اور اس کمیونٹی کے سماجی و معاشی بائیکاٹ کی بات بھی کی۔ انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہونے سے قبل حکومت نے فخرالدین علی احمد میڈیکل کالج کا نام تبدیل کر دیا، جو ایک علامتی اور حساس قدم سمجھا گیا۔ اسی دوران "انسداد تجاوزات" مہم بھی مسلمانوں کے خلاف ہونے کا الزام جھیل رہی ہے، جو رمضان میں بھی جاری رہی۔
گولپارہ کے علاقے سے 566 خاندانوں کی بے دخلی نے بھی تنازع کو بڑھایا، حالانکہ عدالت نے زبردستی کارروائی پر پابندی عائد کی تھی۔ اگرچہ انتخابی ضابطہ نافذ ہونے کے بعد شدت میں کمی آئی ہے، مگر سماجی تقسیم برقرار ہے۔ ایک حالیہ روڈ شو میں بی جے پی کارکنوں نے بلڈوزروں پر سوار ہو کر وزیر اعلیٰ کا استقبال کیا، جو سیاسی علامت بن گیا۔ ریاست کی اقتصادی صورتحال بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ 2023-24 کے اقتصادی سروے کے مطابق تقریباً 10 لاکھ تعلیم یافتہ نوجوان روزگار کی تلاش میں ہیں۔
ادھر، قبائلی طبقات میں بھی بے چینی بڑھ رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے نئی ایس ٹی کیٹیگری بنانے کی تجویز نے پرانے قبائل میں عدم اطمینان پیدا کیا ہے، کیونکہ اس سے ریزرویشن کے مواقع متاثر ہو سکتے ہیں۔ کاربی آنگلونگ ضلع میں حالیہ نسلی جھڑپوں نے صورتحال کی پیچیدگی کو مزید اجاگر کیا، جہاں زمین کے تنازع پر تشدد ہوا۔ مجموعی طور پر، عوامی سطح پر ایک بے چینی اور تبدیلی کی خواہش ضرور موجود ہے۔ مگر اصل سوال یہی ہے کہ کیا اپوزیشن اس احساس کو سیاسی کامیابی میں بدل سکتی ہے یا نہیں۔
(سوربھ سین کولکاتا میں مقیم آزاد صحافی اور سیاسی تجزیہ کار ہیں، جو انسانی حقوق اور عالمی امور پر لکھتے ہیں)
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔