نابالغ سے عصمت دری معاملہ میں قید کی سزا کاٹ رہے آسارام کو پھر ملی راحت، عبوری ضمانت میں 7 جولائی تک توسیع

عدالت نے واضح کیا ہے کہ یہ راحت 7 جولائی یا آسارام کی سزا ملتوی معاملے میں محفوظ رکھے گئے فیصلہ کے آنے تک (جو بھی پہلے ہو) اثر انداز رہے گی۔ آج ہی آسارام کی عبوری ضمانت کی پچھلی میعاد ختم ہو رہی تھی۔

تصویر سوشل میڈیا
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

راجستھان ہائی کورٹ کی جودھ پور بنچ نے جنسی استحصال کے معاملے میں تاحیات قید کی سزا کاٹ رہے آسام کو بڑی راحت دی ہے۔ کارگزار چیف جسٹس سنجیو پرکاش شرما اور جسٹس یوگیندر کمار پروہت کی ڈویژن بنچ نے میڈیکل گراؤنڈ پر ملی عبوری ضمانت کی مدت کو 7 جولائی تک بڑھا دیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ یہ راحت 7 جولائی یا آسارام کی سزا ملتوی معاملے میں محفوظ رکھے گئے فیصلہ کے آنے تک (جو بھی پہلے ہو) اثر انداز رہے گی۔ آج ہی آسام کی عبوری ضمانت کی پچھلی میعاد ختم ہو رہی تھی۔

دراصل اگست 2013 میں جودھ پور واقع آشرم میں ایک نابالغ طالبہ کے ساتھ جنسی استحصال کے الزام میں آسارام کو گرفتار کیا گیا تھا۔ طویل سماعت کے بعد جودھ پور کی خصوصی پاکسو کورٹ نے 25 اپریل 2018 کو انھیں قصوروار قرار دیتے ہوئے تاحیات قید کی سزا سنائی تھی۔ اس کے علاوہ جنوری 2023 میں گجرات کے گاندھی نگر آشرم میں ایک خاتون مرید کے ساتھ عصمت دری کے معاملے میں بھی آسارام کو تاحیات قید کی سزا مل چکی ہے۔ 86 سالہ آسارام بڑھتی عمر اور بیماریوں کے سبب لگاتار ضمانت کی کوشش کر رہے تھے۔ قبل میں سپریم کورٹ کی ہدایت پر ہائی کورٹ نے میڈیکل گراؤنڈ پر عبوری ضمانت دی تھی، جس کی مدت کو عدالت کے ذریعہ وقتاً فوقتاً بڑھایا جاتا رہا ہے۔


آج سماعت کے دوران آسارام کی جانب سے سینئر ایڈووکیٹ دیودَت کامت ویڈیو کانفرنسنگ سے جڑے، جبکہ ایڈووکیٹ نشانت بوڑا، ایڈووکیٹ یشپال سنگھ راج پروہت کورٹ میں موجود رہے۔ انھوں نے عدالت میں اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ 86 سالہ آسارام کا علاج ابھی پورا نہیں ہوا ہے اور مستقل طبی دیکھ ریکھ کی ضرورت ہے۔ انھوں نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ آسارام کی سزا کے خلاف داخل اہم اپیل (سزا ملتوی کرنے کی) پر سماعت 20 اپریل کو ہی مکمل ہو چکی ہے اور ہائی کورٹ اس پر اپنا فیصلہ محفوظ رکھ چکا ہے۔ ایسے میں جب تک حتمی فیصلہ نہیں آ جاتا، تب تک طبی بنیاد پر دی گئی عبوری ضمانت کو جاری رکھنا منصفانہ فیصلہ ہے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔