اروناچل پردیش میں اچانک سیلاب کی تباہی، 4 افراد لاپتا، آسام کے نشیبی اضلاع میں ہائی الرٹ
اروناچل کے کیئی پینیور میں اچانک آنے والے سیلاب سے ایک خاتون ٹیچر کی موت ہو گئی جبکہ چار افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ آسام حکومت نے ممکنہ سیلاب کے خدشے کے پیش نظر نشیبی اضلاع میں ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے

اروناچل پردیش کے کیئی پینیور ضلع میں اچانک آنے والے شدید سیلاب کے بعد لاپتا چار افراد کی تلاش کا عمل دوسرے روز بھی جاری رہا، جبکہ مسلسل بارش اور پہاڑی علاقوں میں پانی کی بڑھتی ہوئی مقدار کے پیش نظر پڑوسی ریاست آسام میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں برہم پتر اور اس کی معاون ندیوں میں پانی کی سطح میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے کئی نشیبی اضلاع متاثر ہونے کا امکان ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق منگل سے جاری موسلا دھار بارش کے باعث کیئی پینیور ضلع کے یجالی سرکل علاقے میں اچانک سیلاب آ گیا، جس کی زد میں پوسا کے قریب واقع نیپکو پروجیکٹ کالونی آ گئی۔ سیلاب اور شدید بارش کے باعث زیر تعمیر حفاظتی دیوار منہدم ہو گئی، جس سے کالونی اور اس کے اطراف کے نشیبی رہائشی علاقوں میں بڑے پیمانے پر پانی بھر گیا۔ اس واقعے میں تقریباً بیس مکانات اور رہائشی یونٹوں کو نقصان پہنچا، جبکہ کئی سامان سے لدے ہوئے گاڑیاں بھی متاثر ہوئیں۔
ابتدا میں پانچ افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاع ملی تھی، تاہم بدھ کی دوپہر امدادی ٹیموں نے ایک خاتون کی لاش برآمد کر لی، جن کی شناخت ویویکانند کیندر ودیالیہ کی ٹیچر نرملا گپتا کے طور پر ہوئی۔ اس کے باوجود دیگر چار افراد کا اب تک کوئی سراغ نہیں ملا۔ لاپتا افراد میں الیش مارک، بلاری مارک، تاؤ انجینا اور سوربھ کمار شامل ہیں۔ امدادی ٹیمیں مسلسل متاثرہ علاقوں میں تلاش اور بچاؤ کا کام انجام دے رہی ہیں۔
اس قدرتی آفت میں کم از کم بیس افراد زخمی ہوئے، جن میں سے تین کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ زخمیوں کو سرکاری اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ اسی دوران ہائیڈرو پاور پروجیکٹ میں بجلی کی پیداوار بھی احتیاطی طور پر عارضی طور پر روک دی گئی ہے۔
مرکزی وزیر برائے پارلیمانی امور و اقلیتی امور کرن رجیجو نے اس سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جانی و مالی نقصان انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی اور کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح عوام کی جان و مال کا تحفظ ہے۔ ان کے مطابق امدادی، راحت اور بحالی کے تمام کام تیزی سے جاری ہیں اور ہر متاثرہ خاندان کو ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب آسام حکومت نے اروناچل پردیش میں مسلسل بارش اور اچانک سیلاب کے بعد ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ کو چوکنا رہنے کی ہدایت دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر پانی کی سطح مزید بڑھی تو سب سے پہلے دھیمجی، لکھیم پور، بسوناتھ اور سونیت پور اضلاع متاثر ہو سکتے ہیں، جس کے بعد سیلاب کا پانی ریاست کے دیگر نشیبی علاقوں تک پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ انتظامیہ نے دریا کے کنارے رہنے والے لوگوں سے غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔
