عراق اور ترکی کے ہم منصب سے عراقچی نے کی فون پر گفتگو، مغربی ایشیا میں کشیدگی روکنے پر کیا گیا غور و فکر

فون پر بات چیت میں عراقچی اور عراق کے وزیر خارجہ فواد حسین نے دونوں ممالک سے متعلق امور، علاقائی پیش رفت اور جاری عمل پر تبادلۂ خیال کیا۔

<div class="paragraphs"><p>ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی / آئی اے این ایس</p></div>
i

ایران، عراق اور ترکی نے مغربی ایشیا میں کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ یہ معاملہ ہفتے کے روز ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اور ان کے ترک اور عراقی ہم منصبوں کے درمیان ہوئی الگ الگ فون پر بات چیت میں اٹھایا گیا۔ اس کی اطلاع ایران کی وزارت خارجہ کی جانب سے اتوار کی صبح جاری کیے گئے بیانات میں دی گئی۔ عراقچی اور ترکی کے وزیر خارجہ حکان فیدان کے درمیان ہوئی بات چیت میں فریقین نے خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا۔ دونوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنا اور علاقائی تنازعات کو پھیلنے سے روکنا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں امن اور استحکام برقرار رکھنے کے لیے مسلسل بات چیت اور سفارتی کوششیں جاری رہنی چاہئے۔

ایک الگ فون پر بات چیت میں عراقچی اور عراق کے وزیر خارجہ فواد حسین نے دونوں ممالک سے متعلق امور، علاقائی پیش رفت اور جاری عمل پر تبادلۂ خیال کیا۔ انہوں نے مشترکہ سرحدی علاقے میں سلامتی اور استحکام برقرار رکھنے اور باہمی تال میل جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ دونوں رہنماؤں نے یہ بھی کہا کہ علاقائی واقعات کو ذمہ داری کے ساتھ حل کرنا ضروری ہے اور تنازعات کو بڑھنے یا دوسرے علاقوں تک پھیلنے سے روکنے کے لیے کوششیں کی جانی چاہئیں۔ اس دوران ایرانی حکام نے ہفتے کے روز بتایا کہ ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز کے لیے نئے داخلے اور اخراج کے راستوں کے خاکے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک پیر کے روز مسقط میں ہونے والی علاقائی میٹنگ میں خلیجی ممالک کو اس بات چیت کے نتائج سے آگاہ کریں گے۔


نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ’تسنیم‘ نے ایران کی مذاکراتی ٹیم سے وابستہ ایک ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ یہ معاہدہ ایران اور عمان کے درمیان طویل عرصے تک جاری رہنے والی تکنیکی اور سفارتی بات چیت کے بعد ہوا ہے۔ اگست کے آخر میں فریقین کے درمیان حتمی اتفاق رائے ہوا۔ ذرائع کے مطابق نئے معاہدے کے تحت خلیجی خطے میں داخل ہونے والا راستہ مکمل طور پر ایران کے علاقائی سمندری پانی کے اندر ہوگا۔ وہیں اخراج کے راستے کا ایک حصہ ایران کے علاقائی پانی کے دائرے میں آئے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ راستہ ایران کی جانب سے طے کیے گئے انتظامات کے تحت چلایا جائے گا۔ نئے نظام کے نفاذ کے بعد آبی گزرگاہ کا جنوبی راستہ بند کر دیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق امریکہ چاہتا تھا کہ یہ جنوبی راستہ کھلا رہے۔ حالانکہ ذرائع نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس معاہدے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھول دیا جائے گا۔