ملک میں غصہ اور ناراضگی، لوگ شوق سے سڑک پر نہیں اترتے: منوج جھا

انڈیا بلاک کے احتجاج پر منوج جھا نے کہا کہ مخالفت صرف ایک دن یا چند سڑکوں تک محدود نہیں ہے۔ ملک بھر میں لوگ اپنے اپنے طریقے سے اپنی ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>آر جے&nbsp;ڈی کے راجیہ&nbsp;سبھ رکن منوج جھا / آئی اے این ایس</p></div>
i

راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے رکن پارلیمنٹ منوج جھا نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف انڈیا بلاک کے احتجاجی مظاہروں سے متعلق اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں لوگ اپنے اپنے انداز میں سڑکوں پر اتر رہے ہیں، اور اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ لوگ کسی شوق کی وجہ سے احتجاج نہیں کرتے، بلکہ ان کے اندر غصہ اور ناراضگی ہے۔ منوج جھا نے الزام لگایا کہ مبینہ بدعنوانی کے ایک نظام کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے اور اسے بچانے والے لوگ وہ ہیں جو فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سپریم کورٹ اس معاملے میں ایک بڑی نظیر قائم کرے گی۔

انڈیا بلاک کے احتجاج پر منوج جھا نے کہا کہ مخالفت صرف ایک دن یا چند سڑکوں تک محدود نہیں ہے۔ ملک بھر میں لوگ اپنے اپنے طریقے سے اپنی ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں۔ آر جے ڈی کے رکن پارلیمنٹ نے بتایا کہ انڈیا بلاک کے لیڈران نے متعلقہ معاملے پر عرضی داخل کرنے کے لیے سپریم کورٹ تک مارچ کیا۔ اعلیٰ ترین عدالت اس پورے معاملے سے پہلے ہی واقف ہے۔ منوج جھا نے امید ظاہر کی کہ سپریم کورٹ ایسا فیصلہ یا نظیر پیش کرے گی، جس سے مستقبل میں اس طرح کی صورت حال دوبارہ پیدا نہ ہو سکے۔ حالانکہ انہوں نے عدالت کے ممکنہ فیصلے کے بارے میں کوئی یقینی دعویٰ نہیں کیا۔


کانگریس رکن پارلیمنٹ اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کے ساتھ آج چائے پر ہونے والی گفتگو کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر منوج جھا نے کہا کہ جب انڈیا بلاک کے تمام لیڈران اور اراکین پارلیمنٹ ایک ساتھ موجود ہوں، تو چائے کے دوران اور اس کے بعد بھی بات چیت ہونا فطری ہے۔ انہوں نے کہا کہ میٹنگ میں کیا گفتگو ہوگی اور اس سے کیا نتیجہ نکلے گا، اس کی اطلاع مناسب وقت پر دی جائے گی۔

منوج جھا کے بیان سے اشارہ ملتا ہے کہ انڈیا بلاک کے لیڈران احتجاج اور آئندہ کی حکمت عملی پر آپس میں تبادلۂ خیال کر رہے ہیں۔ سبھی کی نظر اب سپریم کورٹ میں داخل کی گئی عرضی اور اپوزیشن پارٹیوں کی آئندہ میٹنگ کی پیش رفت پر مرکوز ہے۔ اپوزیشن نے اپنے احتجاج کو عوامی غصے سے جوڑتے ہوئے اس معاملے میں عدالتی مداخلت کی امید ظاہر کی ہے۔