آندھرا پردیش میں 13 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کا فیصلہ

وزیر اعلیٰ چندرابابو نے اعلان کیا ہے کہ ریاست میں 13 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی لگائی جائے گی۔ 13 سے 16 سال کے بچوں کے حوالے سے فیصلہ باہمی اتفاق رائے کے بعد کیا جائے گا

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ این چندرابابو نائیڈو نے اعلان کیا ہے کہ ریاستی حکومت 13 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کو عملی شکل دینے کے لیے آئندہ 90 دنوں کے اندر ضروری اقدامات کیے جائیں گے، جبکہ 13 سے 16 سال کے بچوں کے حوالے سے حتمی فیصلہ وسیع مشاورت اور باہمی اتفاق رائے کے بعد کیا جائے گا۔

این چندرابابو نائیڈو نے ریاستی اسمبلی میں اختصاصی بل پر بحث کے دوران یہ بات کہی۔ انہوں نے واضح کیا کہ کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا کے ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے حکومت سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ ان کے مطابق حکومت اس بات پر بھی غور کر رہی ہے کہ 13 سے 16 سال کے بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال کو کس حد تک محدود یا منظم کیا جائے۔

اس سے قبل کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارمیا نے بھی اعلان کیا تھا کہ ریاست میں 16 سال سے کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کی جائے گی۔ اس اعلان کے بعد جنوبی ہند کی مختلف ریاستوں میں کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق پالیسیوں پر بحث تیز ہو گئی ہے۔


گزشتہ ماہ آندھرا پردیش کی وزیر داخلہ ونگالاپوڈی انیتا نے اسمبلی میں بتایا تھا کہ ریاستی حکومت اسکول کے طلبہ کو سوشل میڈیا کے استعمال سے روکنے کے لیے ایک قانون پر غور کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس مقصد کے لیے تشکیل دی گئی ذیلی کمیٹی کی اب تک دو نشستیں ہو چکی ہیں جن میں مختلف پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس کمیٹی نے تمل ناڈو اور کرناٹک جیسے ریاستوں میں اپنائے جا رہے اقدامات کا بھی جائزہ لیا ہے۔

اس سے پہلے جنوری میں اطلاعاتی ٹیکنالوجی اور الیکٹرانکس کے وزیر نارا لوکیش نے کہا تھا کہ حکومت عمر کی بنیاد پر سوشل میڈیا تک مناسب رسائی کے لیے قانونی ڈھانچے کا مطالعہ کرے گی۔ ان کے مطابق حکومت اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ سوشل میڈیا ایک محفوظ ماحول فراہم کرے اور اس کے ممکنہ منفی اثرات کو کم کیا جا سکے، خاص طور پر خواتین اور بچوں کے لیے۔

حکومت کے مطابق کم عمر بچے مسلسل سوشل میڈیا استعمال کر رہے ہیں جس کے باعث ان کی توجہ اور تعلیم پر اثر پڑ رہا ہے۔ اسی پس منظر میں وزرا کے ایک گروپ کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ 13 سے 16 سال کے بچوں کے لیے کچھ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک رسائی محدود کرنے یا پابندی لگانے کے امکانات کا جائزہ لے۔

قابل ذکر ہے کہ 10 فروری کو تلگو دیشم پارٹی نے بھی مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ سوشل میڈیا کے استعمال کو عمر کی بنیاد پر منظم کرنے کے لیے قومی سطح پر پالیسی پر غور کیا جائے۔