شدید مخالفت کے درمیان آسام اسمبلی سے ’یو سی سی بل‘ ہوا پاس، سبھی مذاہب کے لیے ہوگا یکساں قانون

آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے یونیفارم سول کوڈ (یو سی سی) آسام بل 2026 کے پاس ہونے کو ریاست کے لیے تاریخی قدم قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ قانون اور انصاف کی سمت میں ایک بڑا فیصلہ ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ہیمنت بسوا سرما</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

آسام اسمبلی نے شدید مخالفت کے درمیان ’یونیفارم سول کوڈ (یو سی سی) آسام بل، 2026‘ منظور کر لیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی آسام شمال مشرق کی پہلی اور ملک کی تیسری ریاست بن گئی ہے، جہاں یونیفارم سول کوڈ قانون نافذ کیا گیا ہے۔ اس قانون کے تحت شادی، طلاق، گود لینا، جائیداد اور خاندانی معاملات سے متعلق قوانین تمام شہریوں کے لیے یکساں ہوں گے۔ یعنی مختلف مذاہب کے لیے الگ الگ پرسنل قوانین کی جگہ اب ایک مشترکہ قانون نافذ ہوگا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس قانون کا مقصد تمام شہریوں کو یکساں حقوق دینا اور قانونی نظام کو آسان بنانا ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن اور بعض تنظیموں نے اس پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے مذہبی اور ثقافتی روایات متاثر ہو سکتی ہیں۔ آسام سے پہلے اتراکھنڈ اور گوا میں یونیفارم سول کوڈ نافذ کیا جا چکا ہے۔ اب آسام ایسا قانون بنانے والی تیسری ریاست بن گئی ہے۔


آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے اسمبلی سے ’یونیفارم سول کوڈ (یو سی سی) آسام بل، 2026‘ پاس ہونے کو ریاست کے لیے ایک تاریخی قدم قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قانون مساوات اور انصاف کی سمت میں ایک بڑا فیصلہ ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ آسام کی تاریخ میں یہ ایک اہم لمحہ ہے کیونکہ اب آسام یونیفارم سول کوڈ نافذ کرنے والی ملک کی تیسری ریاست بن گئی ہے۔ یہ قدم ملک کے بانیوں کے نظریات اور آئین سازوں کی خواہشات کو آگے بڑھانے والا ہے۔

ہیمنت بسوا سرما کے مطابق یہ فیصلہ 3 اہم نکات کو پورا کرتا ہے، جن میں آئین کے آرٹیکل 44 کی روح، بی جے پی کے بنیادی نظریات اور بی جے پی آسام کے انتخابی وعدے شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے عوام سے کیا گیا وعدہ پورا کیا ہے اور یہ قانون تمام شہریوں کے لیے یکساں نظام یقینی بنانے کی سمت میں ایک بڑا قدم ہے۔