احتجاجی مظاہروں کے درمیان سنجے سنگھ نے پی ایم مودی کو لکھا خط، پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانے کا مطالبہ
سنجے سنگھ نے خط میں ووٹ چوری، 13 کروڑ سے زیادہ نام حذف کیے جانے کے مبینہ واقعات، اپنے جمہوری حقوق کا استعمال کرنے والے عام لوگوں کے خلاف پولیس کارروائی وغیرہ کا ذکر کیا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف ملک میں جاری احتجاجی مظاہروں کے درمیان عام آدمی پارٹی (عآپ) کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھا ہے۔ اس میں انہوں نے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ عآپ لیڈر نے خط میں ووٹ چوری، ووٹر لسٹ سے 13 کروڑ سے زیادہ نام حذف کیے جانے کے مبینہ واقعات، اپنے جمہوری حقوق کا استعمال کرنے والے عام لوگوں کے خلاف پولیس کارروائی اور انہیں حراست میں لیے جانے کے واقعات کا ذکر کیا ہے۔ ساتھ ہی ان مسائل پر ایوان میں بحث کرانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
عآپ رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے وزیر اعظم مودی کو لکھے خط میں کچھ دیگر اہم باتیں بھی لکھیں ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ ’’ایس آئی آر کے نام پر بڑے پیمانے پر ووٹروں کے نام حذف کیے جانے سے ہمارے انتخابی عمل کی سالمیت، شفافیت اور غیر جانب داری کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا ہوئے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید لکھا کہ ’’اتنے بڑے پیمانے پر نام غلط طریقے سے حذف کیے جانے کے الزامات پر وضاحت، جوابدہی اور پارلیمنٹ میں جامع بحث ضروری ہے۔ ہر اہل شہری کو اس خوف کے بغیر اپنے آئینی حق رائے دہی کا استعمال کرنے کے قابل ہونا چاہیے کہ اسے ووٹ دینے کے حق سے محروم کر دیا جائے گا۔‘‘
سنجے سنگھ نے اس خط میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف جاری احتجاج کا بھی ذکر کیا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ’’دہلی میں ’ووٹ چوری‘ کے خلاف جاری پُرامن احتجاجی مظاہروں کے دوران چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ مظاہرین نے ایس آئی آر میں بے ضابطگیوں کا الزام لگاتے ہوئے انتخابی عمل کی غیر جانبداری پر سوال اٹھائے ہیں۔ منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے کی ذمہ داری طے ہونی چاہیے۔‘‘
سنجے سنگھ نے یہ بھی کہا کہ ہندوستانی آئین کا آرٹیکل (b)(1)19 تمام شہریوں کو پُرامن طریقے سے اور بغیر ہتھیاروں کے جمع ہونے کے حق کی ضمانت دیتا ہے۔ پُرامن احتجاجی مظاہروں میں شامل لوگوں کو من مانے طریقے سے حراست میں لے کر اور عوامی نقل و حرکت پر پابندی عائد کرکے ان کی آواز کو دبایا نہیں جانا چاہیے۔ سنجے سنگھ نے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کے مطالبے پر منعقد کیے گئے احتجاج سے پہلے دہلی میٹرو کے 57 اسٹیشنوں کو بند کیے جانے کا مسئلہ بھی اٹھایا اور اسے انتہائی تشویش ناک قرار دیا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
