کانپور کے مشہور ’بکرو واقعہ‘ سے متعلق الٰہ آباد ہائی کورٹ نے سنایا اہم فیصلہ، چوکی انچارج سمیت 2 ملزمین کو ملی ضمانت
دونوں ملزمین کے خلاف قتل، قتل کی کوشش، ڈکیتی، مجرمانہ سازش سمیت تعزیرات ہند کی مختلف دفعات، دھماکہ خیز مواد ایکٹ اور فوجداری قانون ترمیمی ایکٹ کے تحت الزامات عائد کیے گئے تھے۔

الٰہ آباد ہائی کورٹ نے کانپور کے مشہور بکرو واقعہ سے متعلق معاملہ میں چوکی انچارج سمیت 2 ملزمین کی درخواست ضمانت منظور کر لی ہے۔ ملزمین گزشتہ 6 سالوں سے جیل میں بند تھے اور 6 بار ضمانت کی درخواست دے چکے تھے، لیکن ہر بار عدالت نے درخواست مسترد کر دی تھی۔ تاہم اس بار دائر کی گئی ضمانت کی درخواست پر چوکی انچارج کے کے شرما عرف کرشن کمار شرما کو الہ آباد ہائی کورٹ سے راحت مل گئی ہے۔ اس کے علاوہ شیوم دوبے عرف دلال کو بھی الہ آباد ہائی کورٹ نے ضمانت دے دی۔
عدالت نے مانا کہ مقدمے کی سماعت کافی آگے بڑھ چکی ہے اور بڑی تعداد میں شریک ملزمین کو پہلے ہی ضمانت مل چکی ہے۔ ایسے میں عدالت نے دونوں ملزمین کی طویل حراست، مقدمے کی موجودہ صورت حال اور بڑی تعداد میں شریک ملزمین کو مل چکی ضمانت کو مدنظر رکھتے ہوئے دونوں کو مشروط ضمانت دینے کا حکم دیا۔ جسٹس سوربھ شیام شمشیری کی سنگل بنچ نے ضمانت کا یہ حکم دیا ہے۔ دونوں ملزمین کے خلاف چوبے پور تھانے میں درج معاملے میں قتل، قتل کی کوشش، ڈکیتی، مجرمانہ سازش سمیت تعزیرات ہند کی مختلف دفعات، دھماکہ خیز مواد ایکٹ اور فوجداری قانون ترمیمی ایکٹ کے تحت الزامات عائد کیے گئے تھے۔
قابل ذکر ہے کہ بکرو واقعہ جولائی 2020 میں پیش آیا تھا۔ کانپور کے بکرو گاؤں میں 8 پولیس اہلکاروں کو قتل کر دیا گیا تھا۔ یہ قتل عام 3-2 جولائی 2020 کی شب ہوا تھا، جب گینگسٹر وکاس دوبے اور اس کے ساتھیوں نے کانپور کے چوبے پور علاقہ واقع بکرو گاؤں میں پولیس ٹیم پر منصوبہ بندی کے ساتھ حملہ کیا تھا۔ پولیس ٹیم وکاس دوبے کو گرفتار کرنے گئی تھی، لیکن اس منصوبہ بند حملہ میں 8 پولیس اہلکار شہید ہو گئے تھے۔ اس واقعہ کے بعد پولیس نے بڑے پیمانے پر مہم چلائی تھی۔
اس کے بعد کچھ ہفتوں میں وکاس دوبے اور اس کے 6 ساتھیوں کو الگ الگ پولیس تصادموں میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ افسران نے وکاس دوبے اور اس کے رشتہ داروں کی کئی جائیدادیں بھی ضبط کر لی تھیں۔ کانپور پولیس کے مطابق بکرو معاملے میں 45 لوگوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد میں ان میں سے صرف 13 کو ضمانت ملی تھی اور 9 کو جیل سے رہا کیا جا چکا ہے۔ ضمانت پر رہا ہونے والوں میں وکاس دوبے کے ساتھی کی بیوی خوشی دوبے اور چوبے پور تھانے کے سابق افسر ونے تیواری شامل ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
