جسٹس یشونت ورما کے خلاف تینوں الزامات ثابت، جانچ کمیٹی کو گھر سے برآمد نقدی پر نہیں ملا اطمینان بخش جواب
جسٹس ورما کے خلاف تحقیقات کے لیے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے 12 اگست 2025 کو 3 رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ اس میں جسٹس اروند کمار، چیف جسٹس شری چندر شیکھر اور سینئر وکیل بی وی آچاریہ شامل تھے۔

جسٹس یشونت ورما سے متعلق تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ بدھ کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں پیش کر دی گئی۔ یہ وہی معاملہ ہے جس میں جسٹس ورما کی سرکاری رہائش گاہ سے بڑی مقدار میں نقدی ملنے کے الزامات لگے تھے اور ان کے خلاف عہدے سے ہٹانے کی کارروائی شروع کی گئی تھی۔ راجیہ سبھا اور لوک سبھا کے جنرل سکریٹریز نے یہ رپورٹ اپنے اپنے ایوان میں پیش کی۔ رپورٹ 2 حصوں پر مشتمل ہے اور اس کے ساتھ تحقیقات کے دوران ریکارڈ کیے گئے زبانی اور دستاویزی شواہد بھی شامل ہیں۔ 3 رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ مئی میں ہی لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو سونپ دی تھی۔
تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ سے کچھ بڑے انکشافات ہوئے ہیں۔ لوک سبھا اسپیکر کی جانب سے تشکیل دی گئی اس کمیٹی نے جسٹس یشونت ورما کے خلاف عائد تینوں الزامات کو درست مانا ہے۔ رپورٹ میں انہیں قصوروار قرار دیا گیا ہے۔ حالانکہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس معاملے میں کسی طرح کی سازش کے اشارے نہیں ملے ہیں۔
یہ معاملہ دہلی میں جسٹس ورما کی سرکاری رہائش گاہ سے نقدی ملنے اور اس کے بعد شروع ہونے والی تحقیقات سے متعلق ہے۔ تحقیقاتی کمیٹی نے نقدی کی موجودگی، اس سے متعلق شواہد کو محفوظ رکھنے اور جسٹس ورما کی جانب سے دی گئی وضاحت کو لے کر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ کمیٹی نے اپنے نتائج میں جج کو قصوروار قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق نئی دہلی کے 30، تغلق کریسنٹ واقع سرکاری رہائش گاہ کے اسٹور روم میں 500 روپے مالیت کے کافی تعداد میں نوٹ ملے تھے۔ کمیٹی نے کہا کہ جج اطمینان بخش طور پر یہ واضح نہیں کر سکے کہ یہ نوٹ وہاں کیسے پہنچے، ان کا ذریعہ کیا تھا اور ان کی ملکیت کس کی تھی۔
رپورٹ کے مطابق اسٹور روم میں موجود مادی شواہد کو محفوظ یا برقرار نہیں رکھا گیا۔ کمیٹی نے کہا کہ قانونی طریقے سے سیل کرنے اور معائنے سے پہلے اسٹور روم کی حالت بدل گئی تھی۔ بعد میں نقدی کے نوٹ دستیاب نہیں رہے۔ کمیٹی نے اس بات کو بھی مبہم قرار دیا کہ یہ نوٹ آخر کہاں گئے۔ رپورٹ کے مطابق جسٹس ورما کی جانب سے خاص طور پر 22 مارچ 2025 کو دیے گئے جواب اور اس کے بعد اختیار کیے گئے موقف کو کمیٹی نے حالات کے مطابق واضح اور اطمینان بخش نہیں پایا۔ کمیٹی نے کہا کہ جواب میں وہ وضاحت، شفافیت اور ادارہ جاتی ذمہ داری نظر نہیں آئی جس کی ان حالات میں توقع تھی۔ آزاد سرکاری گواہوں اور دیگر تصدیقی مواد کے ساتھ جواب کا موازنہ کرنے پر کمیٹی نے اسے ٹال مٹول والا اور غیر اطمینان بخش قرار دیا۔
واضح رہے کہ جسٹس ورما کے خلاف تحقیقات کے لیے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے 12 اگست 2025 کو 3 رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ بعد میں کمیٹی کی تشکیل نو کی گئی۔ اس میں سپریم کورٹ کے جسٹس اروند کمار، بمبئی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس شری چندر شیکھر اور سینئر وکیل بی وی آچاریہ شامل رہے۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ مئی 2026 میں لوک سبھا اسپیکر کو سونپ دی تھی۔ اس سے قبل جسٹس ورما نے 9 اپریل 2026 کو صدر جمہوریہ کو اپنا استعفیٰ سونپ دیا تھا۔ اس کے باوجود تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا عمل جاری رہا۔ لوک سبھا اسپیکر نے کہا تھا کہ رپورٹ مانسون اجلاس میں دونوں ایوانوں کے سامنے پیش کی جائے گی۔
یہ معاملہ مارچ 2025 میں سامنے آیا تھا۔ دہلی کے 30، تغلق کریسنٹ واقع جسٹس یشونت ورما کی سرکاری رہائش گاہ کے اسٹور روم میں آگ لگنے کے بعد وہاں بڑی مقدار میں 500 روپے کے نوٹ ملے تھے۔ اس کے بعد نقدی کی موجودگی، اس کے ذرائع اور ملکیت کو لے کر سوال اٹھے۔ جسٹس ورما نے نقدی سے کسی بھی طرح کا تعلق ہونے سے انکار کیا اور وضاحت پیش کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اس میں کسی کی سازش ہو سکتی ہے۔ معاملے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دی گئی۔ اب کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں ان کے خلاف عائد تینوں الزامات کو ثابت مانا ہے۔ ان میں نقدی کے بارے میں اطمینان بخش وضاحت نہ دینا، شواہد کے تحفظ میں سنگین کوتاہی اور تحقیقات کے دوران دیے گئے جواب کو غیر اطمینان بخش پایا جانا شامل ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
