بیلٹ پیپر سے ووٹنگ کا مطالبہ جاری رہے گا، بی جے پی اقتدار میں رہی تو نظام میں تبدیلی ممکن نہیں: اکھلیش
اکھلیش یادو نے بیلٹ پیپر سے ووٹنگ کے مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ایس پی تمام نشستیں جیتنے کے بعد بھی یہ مطالبہ جاری رکھے گی۔ انہوں نے بی جے پی حکومت، ای وی ایم اور انتخابی نظام پر بھی سوال اٹھائے

لکھنؤ: سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے قومی صدر اکھلیش یادو نے کہا ہے کہ ایس پی انتخابات میں تمام نشستیں جیت لے، تب بھی بیلٹ پیپر سے ووٹنگ کا مطالبہ جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ اور جرمنی جیسے ترقی یافتہ ممالک میں بیلٹ پیپر کے ذریعے انتخابات کرائے جا سکتے ہیں تو ہندوستان میں ایسا کیوں نہیں ہو سکتا۔
لکھنؤ میں پارٹی دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا کہ الیکشن کمیشن میں تبدیلی یا چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانے جیسے اقدامات اسی وقت ممکن ہوں گے جب بی جے پی اقتدار سے باہر ہوگی۔ ان کے مطابق، بی جے پی کے اقتدار میں رہتے ہوئے نظام میں تبدیلی تقریباً ناممکن ہے۔
ایس پی صدر نے اتر پردیش میں سائبر جرائم میں اضافے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ریاست سائبر دھوکہ دہی کا مرکز بنتی جا رہی ہے، لیکن حکومت اس پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کر رہی۔ انہوں نے ای وی ایم میں مبینہ چھیڑ چھاڑ کے معاملے کو بھی سائبر دھوکہ دہی سے جوڑا۔
اکھلیش یادو نے بی جے پی پر کسانوں کی زمین کے حصول کے نام پر بڑے گھپلے کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے ’’سب سے بڑی زمین مافیا پارٹی‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے بی جے پی رہنماؤں پر سرکاری زمین اور تالابوں پر قبضے کے الزامات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ کے اس دعوے پر سوال اٹھایا کہ مافیا سے 84 ہزار ہیکٹیئر زمین ضبط کی گئی ہے اور پوچھا کہ وہ زمین اب کہاں ہے۔
انہوں نے حکومت پر مدارس کے ساتھ امتیاز برتنے اور لوگوں کو تقسیم کرنے کا الزام لگایا۔ اکھلیش نے کہا کہ مسلمانوں کو آئین پر مکمل اعتماد ہے، لیکن حکومت ان کی مساجد گرانے پر آمادہ ہے۔ انہوں نے اپنی سرکاری رہائش گاہ کو بھی غیر قانونی قرار دیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے بی جے پی رہنماؤں کی بعض عمارتوں اور سرکاری زمین و تالابوں پر تجاوزات کا حوالہ دیا۔
ایس پی صدر نے ووٹر فہرستوں سے نام حذف کیے جانے اور انتخابات میں بے ضابطگیوں کے بھی الزامات عائد کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا کام لوگوں کو تقسیم کرنا رہ گیا ہے، جبکہ روزگار اور تعلیم کے شعبوں میں بھی کام ادھورے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایس پی کی حکومت بننے پر شکشا متروں کے مفاد میں اقدامات کیے جائیں گے اور انہیں استاد کے طور پر احترام دیا جائے گا۔ انہوں نے ریاستی ملازمین کے لیے پرانی پنشن اسکیم بحال کرنے اور ڈگری کالجوں میں نافذ سمسٹر نظام میں تبدیلی کا بھی وعدہ کیا۔
اکھلیش یادو نے آئندہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو اقتدار سے ہٹانے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایس پی کی حکومت بننے پر تعلیم، روزگار اور ملازمین سے متعلق مسائل پر توجہ دی جائے گی۔
