بی جے پی کارکن کی طرح کام کر رہی یوپی پولیس: اکھلیش یادو

سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے یوپی پولیس پر بی جے پی کارکن کی طرح کام کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کی پولیس سے متعلق حالیہ تبصروں کا حوالہ بھی دیا

<div class="paragraphs"><p>اکھلیش یادو (ویڈیو گریب)</p></div>
i

لکھنؤ: سماج وادی پارٹی کے سربراہ اور اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے ریاست کی پولیس کی کارروائی اور طریقۂ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ یوپی پولیس بی جے پی کے ’کارکن‘ کی طرح کام کر رہی ہے۔ انہوں نے یہ بات سپریم کورٹ کی جانب سے اتر پردیش پولیس کی کارروائی پر حالیہ سخت تبصروں کے تناظر میں کہی۔

اکھلیش یادو نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں کہا، ’’سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ بار بار کہہ چکے ہیں کہ پولیس پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ ہم بھی یہی کہتے رہے ہیں کہ پولیس بی جے پی کارکن کی طرح کام کر رہی ہے۔‘‘

سماج وادی پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ ریاست میں حکومت تبدیل ہونے کے بعد ہی یہ مسئلہ ختم ہوگا۔ ان کے مطابق جب بی جے پی کو اقتدار سے ہٹایا جائے گا تو موجودہ بحران بھی ختم ہو جائے گا۔

اکھلیش یادو نے گوتم بدھ نگر کی ضلع مجسٹریٹ میدھا روپم سے متعلق ایک معاملے کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی قانون (رأسوکا) کے تحت ایک نوجوان خاتون کے خلاف کی گئی کارروائی سے متعلق معاملے میں الہ آباد ہائی کورٹ نے پانچ لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا تھا، جس کے خلاف ضلع مجسٹریٹ نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔


انہوں نے کہا، ’’سوچیے، پانچ لاکھ روپے بچانے کے لیے وکیل رکھنے میں 10 لاکھ روپے سے زیادہ خرچ کیے جا رہے ہیں۔‘‘ اکھلیش یادو کا یہ بیان سپریم کورٹ کی جانب سے بدھ کو بلند شہر میں چھیڑ چھاڑ کے ایک معاملے میں اتر پردیش پولیس کی تفتیش کے طریقۂ کار پر سوال اٹھائے جانے کے ایک دن بعد آیا ہے۔

جسٹس سنجے کمار اور جسٹس سنجیو سچدیوا کی بنچ نے معاملے کی سماعت کے دوران ایف آئی آر درج کرنے اور تفتیش کے طریقے پر سوالات اٹھائے تھے۔ بنچ نے خاص طور پر اس بات پر سوال کیا تھا کہ جب ملزم کو مبینہ طور پر موقع پر ہی پکڑ لیا گیا تھا تو ایف آئی آر میں موٹر سائیکل سوار کو ’نامعلوم‘ کیوں بتایا گیا۔ سپریم کورٹ کے ان تبصروں کے پس منظر میں اکھلیش یادو نے ریاستی پولیس کی غیر جانب داری پر سوال اٹھاتے ہوئے حکومت پر بھی تنقید کی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔