مسجد انہدام: سہارنپور جانے سے روکے گئے اجے رائے، احتجاج پر کارکنوں سمیت زیرِ حراست
اتر پردیش کانگریس صدر اجے رائے کو سہارنپور جاتے ہوئے لکھنؤ میں روک دیا گیا۔ احتجاجاً سڑک پر بیٹھنے کے بعد پولیس نے انہیں کارکنوں سمیت حراست میں لیا، بعد میں سب کو رہا کر دیا گیا

لکھنؤ: اتر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر اجے رائے کو پولیس نے پیر کو سہارنپور جانے سے روک دیا۔ وہ سہارنپور کلکٹریٹ احاطے میں مسجد کی مسماری کے واقعے کے بعد مسجد کمیٹی کے ارکان اور متاثرین سے ملاقات کے لیے جا رہے تھے۔ لکھنؤ کے مال ایونیو چوراہے پر بھاری پولیس فورس نے انہیں آگے جانے سے روک دیا۔
پولیس کی کارروائی کے خلاف اجے رائے سڑک پر ہی بیٹھ گئے اور سہارنپور جانے کی اجازت دینے کا مطالبہ کرنے لگے۔ صورت حال کشیدہ ہونے کے بعد پولیس نے انہیں سینکڑوں کانگریس کارکنوں کے ساتھ حراست میں لے لیا اور بس کے ذریعے پولیس لائن پہنچایا۔
کانگریس کے مطابق اجے رائے سمیت تمام پارٹی کارکنوں کو بعد میں پولیس لائن سے رہا کر دیا گیا۔ رہائی کے بعد اجے رائے دیگر کانگریس کارکنوں کے ساتھ لکھنؤ کے ایکو گارڈن پہنچے، جہاں کانگریس کے درج فہرست ذات (ایس سی) شعبے کی جانب سے جاری غیر معینہ مدت کے دھرنے میں شرکت کی۔
پولیس لائن لے جائے جانے کے دوران اجے رائے نے یوگی آدتیہ ناتھ حکومت پر اپوزیشن کی آواز دبانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کا وفد متاثرین سے ملاقات کے لیے سہارنپور جا رہا تھا، لیکن حکومت نے انہیں راستے میں ہی روک دیا۔ رائے نے کہا، ’’راستہ روک سکتے ہیں، آواز نہیں دبا سکتے۔‘‘
انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت عوامی توقعات پر ناکام ہونے کی وجہ سے خوف زدہ ہے اور متاثرین کی آواز اٹھانے والے اپوزیشن رہنماؤں کو سہارنپور جانے سے روک رہی ہے۔ اجے رائے نے کہا کہ کانگریس متاثرین کی لڑائی آئندہ بھی جاری رکھے گی۔
کانگریس کے مطابق ایکو گارڈن میں جاری غیر معینہ مدت کا دھرنا پیر کو ساتویں روز بھی جاری رہا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج اتراکھنڈ کے ہلدوانی میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی جلسۂ عام کے بعد اسٹیج کے ’شدھی کرن‘ کے واقعے کے خلاف شروع کیا گیا ہے۔
کانگریس کا الزام ہے کہ اس ’شدھی کرن‘ کے لیے ذمہ دار بی جے پی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے بجائے کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔
پارٹی نے راہل گاندھی کے خلاف درج ایف آئی آر منسوخ کرنے اور ذمہ دار افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ دھرنے کی قیادت اتر پردیش کانگریس کے درج فہرست ذات شعبے کے چیئرمین اور رکن پارلیمنٹ تنوج پونیا کر رہے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
