اجے ماکن کی اعداد و شمار پر مبنی مہم کا تیسرا دن، دہلی میٹرو میں کانگریس دور کی شراکت کو اجاگر کیا

اجے ماکن نے اپنی مہم کے تیسرے دن دہلی میٹرو کو کانگریس دور کی بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے منظوری، فنڈنگ اور توسیع کے معاملے پر کانگریس، بی جے پی اور عام آدمی پارٹی کے ادوار کا موازنہ پیش کیا

<div class="paragraphs"><p>اجے ماکن / گرافکس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اجے ماکن نے اپنی اعداد و شمار پر مبنی مہم کے تیسرے دن دہلی میٹرو کو لے کر مختلف حکومتوں کی کارکردگی کا موازنہ پیش کیا اور دعویٰ کیا کہ دہلی میٹرو منصوبے کے تصور، منظوری، مالی تعاون اور توسیع میں کانگریس حکومتوں نے بنیادی کردار ادا کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو میں دہلی میٹرو کی تاریخ، مختلف مراحل کی منظوری اور بجٹ سے متعلق اعداد و شمار پیش کیے۔

اجے ماکن نے کہا کہ دہلی میٹرو کا تصور 1994 میں کانگریس دور میں سامنے آیا۔ ان کے مطابق اس وقت کے وزیر اعظم نرسمہا راؤ نے اصولی منظوری دی، جبکہ 1995 میں دہلی میٹرو ریل کارپوریشن وجود میں آئی۔ انہوں نے کہا کہ 2002 میں شیلا دکشت نے دہلی میٹرو کی پہلی لائن کا افتتاح کیا، جبکہ 2005 میں منموہن سنگھ حکومت نے دوسرے مرحلے اور 2011 میں تیسرے مرحلے کی منظوری دی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ دہلی میٹرو کے 416 منظور شدہ کلو میٹر میں سے 351 کلو میٹر لائنوں کی منظوری کانگریس دور میں دی گئی، جو مجموعی منصوبے کا 84 فیصد بنتا ہے۔ ان کے مطابق بی جے پی کی مرکزی حکومت کے دور میں صرف چوتھے مرحلے کے 65 کلو میٹر حصے کی منظوری دی گئی۔


اجے ماکن نے کہا کہ 2010-11 کے دوران دہلی حکومت اور مرکز نے مل کر دہلی کے مجموعی بجٹ کا 17 اعشاریہ 9 فیصد میٹرو منصوبے پر خرچ کیا۔ ان کے مطابق متحدہ ترقی پسند اتحاد حکومت کے 10 برسوں میں دہلی کے بجٹ کا اوسط 12 اعشاریہ 4 فیصد حصہ ہر سال میٹرو پر خرچ ہوا۔

انہوں نے عام آدمی پارٹی حکومت پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ 2015 سے 2025 کے درمیان میٹرو سے متعلق مالی عہد دہلی کے بجٹ کا صرف 5 فیصد رہا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ شیلا دکشت دور میں دہلی حکومت کی شراکت 6 اعشاریہ 4 فیصد تھی، جو بعد کے برسوں میں گھٹ کر 2 اعشاریہ 6 فیصد رہ گئی۔

اجے ماکن نے کہا کہ چوتھے مرحلے کی توسیع عام آدمی پارٹی نے 2014 میں مانگی تھی لیکن مرکزی حکومت نے 2019 میں منظوری دی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 6 برس گزرنے کے بعد بھی منظور شدہ 65 کلو میٹر میں سے محدود حصہ ہی مکمل ہو سکا۔

انہوں نے عام آدمی پارٹی کے اس دعوے کو بھی مسترد کیا کہ دہلی میٹرو کی توسیع ان کے دور میں ہوئی۔ ان کے مطابق کئی لائنیں پہلے سے منظور، مالی طور پر طے شدہ اور سابق حکومتوں کے منصوبوں کا حصہ تھیں۔


اجے ماکن اس سے پہلے اپنی مہم کے پہلے دن دہلی کے مجموعی سرمایہ جاتی خرچ اور دوسرے دن ٹرانسپورٹ سے متعلق سرمایہ کاری کے اعداد و شمار پیش کر چکے ہیں۔ تیسرے دن انہوں نے دہلی میٹرو کو اپنی مہم کا مرکز بناتے ہوئے ایک بار پھر کانگریس دور کو ترقیاتی ڈھانچے کے معاملے میں بہتر قرار دیا اور کہا کہ اعداد و شمار عوام کے سامنے ہیں، فیصلہ لوگ خود کریں۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔