دہلی کی پی ایم10 آلودگی 167 دن رہی گزشتہ سال سے بدتر، 33 مواقع پر اے کیو آئی 500: اجے ماکن

اجے ماکن کے مطابق موسم کا اثر نکالنے کے بعد دہلی میں 245 میں سے 167 دن پی ایم10 آلودگی گزشتہ سال سے زیادہ رہی۔ 33 اسٹیشن پر اے کیو آئی 500 تک پہنچا، جبکہ وِزیرپور 169 پر رہا

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>
i

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اور راجیہ سبھا کے رکن اجے ماکن کی فضائی آلودگی سے متعلق تازہ رپورٹ میں دہلی کی ہوا کے بارے میں ایک تشویش ناک تصویر سامنے آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق موسم کے اثرات کو اعداد و شمار سے الگ کرنے کے بعد بھی 2026 میں اب تک 245 میں سے 167 دن ایسے رہے جب دہلی میں پی ایم10 کی آلودگی گزشتہ سال کے متعلقہ دنوں کے مقابلے میں زیادہ رہی۔

رپورٹ کے مطابق یہ تعداد مجموعی طور پر 68.2 فیصد پیمائش شدہ دنوں کے برابر ہے۔ ماکن کا کہنا ہے کہ یہ موازنہ ہر دن کو گزشتہ سال کے اسی دن کے بجائے اس کے اپنے پلس یا مائنس سات دن کے دائرے میں موجود متعلقہ اعداد و شمار سے جوڑ کر اور یکساں مانیٹرنگ اسٹیشنوں کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ اس عمل میں موسمی اثرات کو بھی الگ کیا گیا ہے۔

تازہ رپورٹ کا ایک اہم پہلو ان مواقع کا ریکارڈ ہے جب دہلی کے فضائی معیار کے مانیٹروں پر اے کیو آئی 500 تک پہنچا۔ ماکن کے مطابق رواں سال اب تک 33 اسٹیشن ڈیز ایسے رہے جب دہلی کے کسی مانیٹر پر اے کیو آئی 500 ریکارڈ ہوا۔ سی پی سی بی کے اپنے پیمانے پر 500 سب سے اوپر کی سطح ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان 33 اسٹیشن ڈیز میں سے 19 صرف 18 جنوری کو ریکارڈ ہوئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ہی دن میں دہلی کے مختلف مانیٹرنگ اسٹیشنوں پر مجموعی طور پر 19 اسٹیشن ڈیز ایسے تھے جہاں اے کیو آئی 500 تک پہنچا۔


ماکن نے واضح کیا ہے کہ ’اسٹیشن ڈے‘ سے مراد ایک مخصوص مانیٹر پر ایک مخصوص دن کی پیمائش ہے۔ لہٰذا 33 اسٹیشن ڈیز کا مطلب یہ نہیں کہ مسلسل 33 دن پوری دہلی کا اے کیو آئی 500 رہا، بلکہ اس سے مراد وہ الگ الگ مواقع ہیں جب کسی مانیٹر نے اس سطح کی آلودگی ریکارڈ کی۔

پی ایم2.5 کے حوالے سے بھی رپورٹ میں تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 245 میں سے 93 دن ایسے تھے جب پی ایم2.5 کی سطح گزشتہ سال کے متعلقہ دنوں سے زیادہ رہی۔ رپورٹ کا کہنا ہے کہ پی ایم2.5 کے ساتھ ساتھ پی ایم10، سلفر ڈائی آکسائیڈ (ایکس او 2) اور کاربن مونو آکسائیڈ (سی او) میں بھی سال کے دوران کوئی حقیقی بہتری دکھائی نہیں دیتی۔

دریں اثنا، آج صبح دہلی کا بدترین مانیٹر وِزیرپور رہا، جہاں اے کیو آئی 169 ریکارڈ کیا گیا۔ سی پی سی بی کے پیمانے پر یہ ’معتدل‘ یعنی موڈریٹ زمرے میں آتا ہے۔ سی پی سی بی کی وضاحت کے مطابق اس سطح کی ہوا میں طویل عرصے تک رہنے سے پھیپھڑوں کے امراض، خصوصاً دمے کے شکار افراد کو سانس لینے میں دشواری ہو سکتی ہے، جبکہ دل کے مریضوں، بچوں اور بزرگوں کو بھی تکلیف کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ماکن نے اپنی تازہ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا ہے کہ فضائی آلودگی کے ہر شمار کیے گئے دن کو ریکارڈ کا حصہ سمجھا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ جس اعداد و شمار پر روزانہ نظر رکھی جاتی ہے، اسے خاموشی سے دفن نہیں کیا جا سکتا۔ رپورٹ کے مطابق تمام اعداد و شمار سینٹرل پولیوشن کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی) کے ڈیٹا پر مبنی ہیں، جبکہ موسم کے اثرات کو الگ کرنے کے لیے ’ای آر اے 5‘ ڈیٹا استعمال کیا گیا ہے۔ ماکن نے مکمل رپورٹ اور طریقۂ کار کے لیے ’ہوا کا حساب ڈاٹ ان‘ کا حوالہ دیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔