دہلی میں حقیقی فضائی آلودگی مسلسل 69 دن سے گزشتہ سال سے زیادہ، فوری اقدامات کرے حکومت: اجے ماکن
اجے ماکن نے کہا کہ موسمی اثرات الگ کرنے پر دہلی میں پی ایم 10 مسلسل 69 دن سے گزشتہ سال سے زیادہ ہے۔ انہوں نے آلودگی کے ذرائع پر سخت کارروائی اور اے کیو آئی کا ریئل ٹائم ڈیٹا جاری کرنے کا مطالبہ کیا

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اجے ماکن نے دہلی کی فضائی آلودگی سے متعلق ایک اور تجزیہ جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ موسمی اثرات کو الگ کرنے کے بعد بھی شہر کی حقیقی فضائی آلودگی گزشتہ سال کے مقابلے میں مسلسل زیادہ ہے۔ ان کے مطابق پی ایم 10 کی سطح مسلسل 69 دن سے گزشتہ سال کے انہی دنوں کے مقابلے میں بلند ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آلودگی میں اضافہ صرف موسمی حالات کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک مستقل مسئلہ بن چکا ہے۔
اجے ماکن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ویڈیو اور تحریری بیان میں کہا کہ ان کا تازہ تجزیہ 27 جولائی صبح 10 بجے سے 28 جولائی صبح 10 بجے تک کے اعداد و شمار پر مبنی ہے، جبکہ اس کا موازنہ گزشتہ سال 21 جولائی سے 4 اگست 2025 کے اوسط اعداد و شمار سے کیا گیا تاکہ ایک دن کے موسمی اتار چڑھاؤ سے نتائج متاثر نہ ہوں۔
انہوں نے کہا کہ مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ کے اے کیو آئی (ایئر کوالٹی انڈیکس) کے مطابق دہلی کا اوسط فضائی معیار اشاریہ 83 ریکارڈ کیا گیا، جو اطمینان بخش زمرے میں شمار کیا جاتا ہے، تاہم موسمی اثرات کو الگ کرنے کے بعد یہی انڈیکس بڑھ کر 87 تک پہنچ جاتا ہے، جس سے ان کے مطابق ظاہر ہوتا ہے کہ حقیقی فضائی آلودگی بظاہر نظر آنے والی صورتحال سے زیادہ خراب ہے۔
اجے ماکن نے کہا کہ موسمی اثرات الگ کرنے کے بعد پی ایم 10 کی سطح گزشتہ سال کے مقابلے میں 13 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی، جسے انہوں نے حکومتی پالیسیوں کی ناکامی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر آلودگی میں فرق صرف موسم کی وجہ سے ہوتا تو مسلسل اتنے طویل عرصے تک یہ صورتحال برقرار نہ رہتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ دہلی میں پی ایم 10 کی حقیقی سطح مسلسل 69 دن سے گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ ہے اور مئی سے اب تک ایک بھی دن ایسا نہیں آیا جب یہ گزشتہ سال کی سطح سے نیچے ریکارڈ کی گئی ہو۔ ان کے مطابق یہی مسلسل بگاڑ اس بات کا ثبوت ہے کہ شہر میں آلودگی کا مسئلہ عارضی نہیں بلکہ مستقل نوعیت اختیار کر چکا ہے۔
اجے ماکن کے مطابق دہلی کے 42 میں سے 40 فضائی نگرانی مراکز پر پی ایم 2.5 اور 42 میں سے 41 مراکز پر پی ایم 10 کی سطح عالمی ادارۂ صحت کی محفوظ حد سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ 14 نگرانی مراکز پر اے کیو آئی گزشتہ سال کے مقابلے میں مزید بڑھا ہے، جبکہ پوسا میں یہ فرق 83 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔
انہوں نے کہا کہ وزیرپور کی صورتحال سب سے زیادہ تشویشناک ہے، جہاں موسمی اثرات الگ کرنے کے بعد اے کیو آئی 141 ریکارڈ کیا گیا، جبکہ پی ایم 10 کی سطح 160.1 مائیکروگرام فی مکعب میٹر رہی، جو عالمی ادارۂ صحت کی مقررہ حد سے 3.6 گنا زیادہ ہے۔ ان کے مطابق موسم سے آزاد تجزیے میں وزیرپور کی فضائی صورتحال گزشتہ سال کے مقابلے میں مزید 14 پوائنٹس خراب ہوئی ہے۔
اجے ماکن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تعمیراتی سرگرمیوں اور سڑکوں کی دھول جیسے پی ایم 10 کے ذرائع، نیز صنعتوں، گاڑیوں اور حیاتیاتی ایندھن کے جلنے سے پیدا ہونے والی پی ایم 2.5 آلودگی پر فوری سخت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے وزیرپور جیسے متاثرہ علاقوں میں مقامی سطح پر فوری اقدامات، صحت سے متعلق انتباہ جاری کرنے اور تمام فضائی نگرانی مراکز کا ریئل ٹائم ایئر کوالٹی ڈیٹا عوام کے لیے دستیاب کرانے کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا، ’سانس لینا بنیادی حق ہے، سہولت نہیں۔‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
