موسمی اثرات الگ کرنے پر بھی دہلی کی حقیقی آلودگی میں اضافہ، پی ایم 10 مسلسل 68 روز سے گزشتہ سال سے زیادہ: اجے ماکن

اجے ماکن نے کہا کہ موسمی اثرات الگ کرنے پر دہلی میں پی ایم 10 مسلسل 68 دن سے گزشتہ سال سے زیادہ ہے۔ انہوں نے حکومت سے آلودگی کے ذرائع پر سخت کارروائی اور عوامی صحت کے ضابطے نافذ کرنے کا مطالبہ کیا

<div class="paragraphs"><p>اجے ماکن / ویڈیو گریب</p></div>
i

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اجے ماکن نے دہلی کی فضائی آلودگی سے متعلق اپنا تازہ تجزیہ جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ موسمی اثرات کو اعداد و شمار سے الگ کرنے کے باوجود شہر میں حقیقی فضائی آلودگی گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ ان کے مطابق پی ایم 10 کی سطح مسلسل 68 دن سے گزشتہ سال کے انہی دنوں کے مقابلے میں بلند ہے، جبکہ نظر آنے والی بہتری دراصل موسم کی وجہ سے ہے، نہ کہ حکومتی اقدامات کا نتیجہ۔

اجے ماکن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ویڈیو اور تحریری بیان میں 5 اگست صبح 10 بجے سے 6 اگست صبح 10 بجے تک کے اعداد و شمار پر مبنی ہے، جبکہ اس کا موازنہ گزشتہ سال 30 جولائی سے 13 اگست 2025 کے اوسط اعداد و شمار سے کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ کے مطابق دہلی کا اوسط اے کیو آئی 85 ریکارڈ کیا گیا، تاہم موسمی اثرات الگ کرنے کے بعد یہی اشاریہ 94 تک پہنچ جاتا ہے۔ ان کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حقیقی فضائی آلودگی بظاہر نظر آنے والی صورتحال سے زیادہ خراب ہے۔

انہوں نے کہا کہ مئی سے اب تک دستیاب اعداد و شمار میں ایک بھی دن ایسا نہیں آیا جب پی ایم 10 کی سطح گزشتہ سال کی سطح سے نیچے ریکارڈ کی گئی ہو، جبکہ ایک دن کے اعداد و شمار دستیاب نہیں تھے۔ ان کے مطابق ان 68 دنوں کے دوران پی ایم 10 کی سطح میں اوسط فرق 15 مائیکروگرام فی مکعب میٹر رہا، جبکہ رواں سال اب تک کے 217 دنوں میں سے 144 دن ایسے رہے جن میں آلودگی گزشتہ سال سے زیادہ ریکارڈ کی گئی۔


اجے ماکن کے مطابق موسمی اثرات الگ کرنے پر گزشتہ سال سے موازنہ رکھنے والے تمام 39 فضائی نگرانی مراکز کی صورتحال مزید خراب پائی گئی اور اوسطاً اے کیو آئی میں 13 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ 42 میں سے 40 فضائی نگرانی مراکز پر پی ایم 2.5 اور تمام 43 مراکز پر پی ایم 10 کی سطح عالمی ادارۂ صحت کی محفوظ حد سے زیادہ ہے۔ ان کے مطابق موسمی اثرات الگ کرنے کے بعد بھی دہلی میں پی ایم 2.5 کی حقیقی سطح عالمی ادارۂ صحت کی مقررہ محفوظ حد سے 2.3 گنا زیادہ ہے، جبکہ کاربن مونو آکسائیڈ کی سطح بھی گزشتہ سال کے مقابلے میں 50 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی، تاہم موجودہ تجزیہ بنیادی طور پر پی ایم 2.5 اور پی ایم 10 کے اعداد و شمار پر مبنی ہے۔

اجے ماکن نے کہا کہ وزیرپور سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ رہا، جہاں موسمی اثرات الگ کرنے کے بعد اے کیو آئی 133 اور پی ایم 10 کی سطح 149.1 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ریکارڈ کی گئی، جو عالمی ادارۂ صحت کی محفوظ حد سے 3.3 گنا زیادہ ہے۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تعمیراتی سرگرمیوں، سڑکوں کی دھول، صنعتوں، گاڑیوں کے اخراج اور حیاتیاتی ایندھن کے جلنے سے پیدا ہونے والی آلودگی کے ذرائع پر فوری سخت کارروائی کی جائے، وزیرپور میں مقامی سطح پر ہنگامی اقدامات کیے جائیں، صحت سے متعلق انتباہ جاری کیا جائے اور خراب یا اس سے زیادہ آلودہ دنوں میں عوامی صحت سے متعلق ضابطے نافذ کیے جائیں۔ انہوں نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا، ’’سانس لینا بنیادی حق ہے، سہولت نہیں۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔