موسمی اثرات الگ کرنے پر دہلی کا فضائی معیار گزشتہ سال سے زیادہ خراب، فوری اقدامات لے حکومت: اجے ماکن
اجے ماکن نے کہا کہ موسمی اثرات الگ کرنے پر دہلی کا حقیقی فضائی معیار گزشتہ سال سے زیادہ خراب ہے۔ انہوں نے حکومت سے تعمیراتی دھول، سڑکوں کی گرد پر قابو پانے اور متعلقہ اداروں کی جوابدہی کا مطالبہ کیا

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اجے ماکن نے دہلی میں فضائی آلودگی کے مسئلے پر ایک بار پھر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اگر موسمی عوامل کے اثرات کو الگ کر کے فضائی معیار کا جائزہ لیا جائے تو شہر کی حقیقی آلودگی گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال حکومت کی پالیسیوں کی ناکامی کی عکاس ہے اور آلودگی پر قابو پانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔
اجے ماکن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے ویڈیو پیغام اور تحریری بیان میں بتایا کہ ان کا تجزیہ 30 جون صبح 10 بجے سے یکم جولائی صبح 10 بجے تک کے اعداد و شمار پر مبنی ہے، جبکہ گزشتہ سال کے اسی عرصے کے اوسط اعداد و شمار سے اس کا موازنہ کیا گیا تاکہ ایک دن کے موسمی اتار چڑھاؤ سے نتائج متاثر نہ ہوں۔
انہوں نے کہا کہ اس دوران ہوا کی رفتار گزشتہ سال کے 5.7 کلومیٹر فی گھنٹہ کے مقابلے میں بڑھ کر 14.2 کلومیٹر فی گھنٹہ ہو گئی، جس کے باعث سڑکوں اور تعمیراتی مقامات کی گرد و غبار زیادہ مقدار میں فضا میں پھیل گئی اور پی ایم 10 کی سطح میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ گزشتہ سال 6.9 ملی میٹر بارش ہوئی تھی، جبکہ اس بار صرف 4.8 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ ان کے مطابق کم بارش ہونے سے فضائی آلودگی کے ذرات مناسب طور پر صاف نہیں ہو سکے اور فضا میں زیادہ دیر تک موجود رہے، جس سے ہوا مزید خراب دکھائی دی۔
اجے ماکن کے مطابق دہلی کا اوسط فضائی معیار اشاریہ 171 ریکارڈ کیا گیا، جبکہ عالمی ادارۂ صحت کے معیار کے مطابق محفوظ سطح اس سے کہیں کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں سب سے زیادہ خراب فضائی معیار این ایس آئی ٹی دوارکا کے علاقے میں ریکارڈ کیا گیا، جہاں فضائی معیار اشاریہ 314 تک پہنچ گیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب موسمی اثرات کو الگ کر کے تجزیہ کیا گیا تو فضائی معیار اشاریہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 10 پوائنٹس زیادہ نکلا، جبکہ پی ایم 10 کی سطح بھی 12 فیصد زیادہ رہی۔ ان کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حقیقی آلودگی میں اضافہ ہوا ہے اور اس کا تعلق صرف موسمی حالات سے نہیں بلکہ آلودگی پر قابو پانے کے لیے اختیار کی گئی حکومتی پالیسیوں سے بھی ہے۔
اجے ماکن نے یہ بھی کہا کہ نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ کے اعداد و شمار سے متعلق بین الاقوامی تحقیق میں پیمائش کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے گئے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی درستگی متاثر ہو سکتی ہے۔ اسی لیے ان کا موجودہ تجزیہ بنیادی طور پر پی ایم 2.5 اور پی ایم 10 کے اعداد و شمار پر مرکوز ہے، جنہیں زیادہ قابل اعتماد سمجھا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ فضائی صورتحال دمے اور دل کے مریضوں، بچوں اور بزرگوں کے لیے تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تعمیراتی سرگرمیوں اور سڑکوں کی گرد و غبار جیسے پی ایم 10 کے اہم ذرائع کے خلاف فوری کارروائی کی جائے، این ایس آئی ٹی دوارکا جیسے متاثرہ علاقوں میں مقامی سطح پر اقدامات کیے جائیں، عوام کو بروقت صحت سے متعلق انتباہ جاری کیا جائے اور فضائی معیار کے انتظام سے متعلق کمیشن اور دہلی آلودگی کنٹرول کمیٹی کی جوابدہی طے کرتے ہوئے غفلت برتنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ اجے ماکن نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ ’سانس لینا بنیادی حق ہے، سہولت نہیں۔‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
