ایران میں کشیدہ حالات: آل انڈیا میڈیکل اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کا وزیر اعظم نریندر مودی کو خط، امتحانات ملتوی کرانے کا مطالبہ
آل انڈیا میڈیکل اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے ایران کی صورتحال کے پیش نظر وزیر اعظم مودی کو خط لکھ کر ایرانی جامعات میں ہونے والے امتحانات ملتوی کرانے اور طلبہ کی محفوظ واپسی یقینی بنانے کی اپیل کی ہے

نئی دہلی: آل انڈیا میڈیکل اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک مکتوب ارسال کرتے ہوئے ایران کی موجودہ کشیدہ صورتحال کے پیش نظر وہاں زیر تعلیم ہندوستانی طلبہ کے امتحانات ملتوی کرانے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم نے اپنے خط میں کہا ہے کہ طلبہ کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہونی چاہیے اور موجودہ حالات میں امتحانات کا انعقاد نہ تو محفوظ ہے اور نہ ہی عملی طور پر ممکن دکھائی دیتا ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق تہران میں ہندوستانی سفارت خانے نے 23 فروری 2026 کو ایک ہنگامی مشورہ جاری کیا ہے، جس میں ایران میں موجود تمام ہندوستانی شہریوں اور طلبہ کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ سفارت خانے نے یہ قدم ایران میں بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر اٹھایا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ یہ مشورہ شہریوں کی سلامتی کے لیے بے حد اہم ہے، تاہم متعدد ہندوستانی طلبہ کے امتحانات 5 مارچ 2026 کو مقرر ہیں، جس کے باعث وہ فوری طور پر وطن واپس آنے سے قاصر ہیں۔
تنظیم نے اپنے مکتوب میں واضح کیا کہ موجودہ تناؤ بھرے ماحول میں صرف امتحان دینے کے لیے ایران میں قیام کرنا طلبہ کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف طلبہ بلکہ ان کے اہل خانہ کو بھی شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ غیر یقینی حالات اور امتحانات کے حوالے سے ابہام نے تعلیمی عمل کو متاثر کیا ہے اور طلبہ کے مستقبل کے بارے میں خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
آل انڈیا میڈیکل اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ ہندوستانی سفارت خانہ اور متعلقہ حکام کو ہدایت دی جائے کہ وہ ایرانی جامعات اور متعلقہ تعلیمی اداروں کے ساتھ فوری رابطہ قائم کریں اور طے شدہ امتحانات کو مؤخر کرانے کے لیے اقدامات کریں۔ تنظیم نے یہ بھی کہا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ ہندوستانی طلبہ کی محفوظ واپسی اور ان کے انخلا کے عمل کو جلد از جلد یقینی بنایا جائے تاکہ کوئی طالب علم غیر ضروری خطرے کا سامنا نہ کرے۔
خط میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ ایسی غیر معمولی صورتحال، جو طلبہ کے اختیار سے باہر ہے، ان کے تعلیمی ریکارڈ یا مستقبل پر منفی اثر نہ ڈالے۔ تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ امتحانات کے التوا یا متبادل انتظامات کے ذریعے یہ یقینی بنایا جائے کہ کسی بھی طالب علم کو تعلیمی نقصان نہ اٹھانا پڑے۔
قابل ذکر ہے کہ تہران میں موجود ہندوستانی سفارت خانے نے پیر کے روز جاری کردہ اپنے مشورے میں کہا ہے کہ 5 جنوری 2026 کو جاری کیے گئے سابقہ مشورے کے تسلسل میں اور ایران میں بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر تمام ہندوستانی شہری، جن میں طلبہ، زائرین، تاجر اور سیاح شامل ہیں، دستیاب ذرائع سے ملک چھوڑ دیں۔ سفارت خانے نے تجارتی پروازوں سمیت ہر ممکن راستہ اختیار کرنے کی ہدایت دی ہے۔
ایسے میں طلبہ اور ان کے اہل خانہ کی نظریں حکومت ہند کے آئندہ اقدامات پر مرکوز ہیں، تاکہ ان کی سلامتی اور تعلیمی مستقبل دونوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔