جامع مسجد کے سابق شاہی امام سید احمد بخاری مظفرنگر کی عدالت میں پیش، 19 سال پرانے مقدمے میں ضمانت

دہلی کی جامع مسجد کے سابق شاہی امام سید احمد بخاری 2007 کے انتخابی ضابطۂ اخلاق خلاف ورزی مقدمے میں مظفرنگر کی عدالت میں پیش ہوئے، جہاں وارنٹ واپس لے کر انہیں ضمانت دے دی گئی

<div class="paragraphs"><p>سید احمد بخاری / فائل تصویر / آئی اے این ایس&nbsp;</p></div>
i

دہلی کی تاریخی جامع مسجد کے سابق شاہی امام سید احمد بخاری جمعہ کو تقریباً 19 سال پرانے انتخابی ضابطۂ اخلاق خلاف ورزی کے ایک مقدمے میں مظفرنگر کی چیف جوڈیشل مجسٹریٹ (سی جے ایم) عدالت میں پیش ہوئے، جہاں عدالت نے ان کے خلاف جاری وارنٹ واپس لیتے ہوئے انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ مقدمے کی اگلی سماعت 23 اگست مقرر کی گئی ہے۔

یہ مقدمہ 2007 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے دوران ضلع مظفرنگر کے قصبہ کھتولی میں منعقد ہونے والی ایک انتخابی ریلی سے متعلق ہے۔ استغاثہ کے مطابق اس وقت سید احمد بخاری یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (یو ڈی ایف) کے امیدوار صابر علی کی حمایت میں انتخابی جلسے سے خطاب کرنے کے لیے کھتولی پہنچے تھے۔ الزام ہے کہ ان کا ہیلی کاپٹر انتظامیہ کی پیشگی اجازت کے بغیر جلسہ گاہ کے قریب اتارا گیا تھا، جسے انتخابی ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔

سرکاری ریکارڈ کے مطابق اس معاملے میں کھتولی تھانے میں سید احمد بخاری، یو ڈی ایف امیدوار صابر علی اور جماعت کے ضلعی انتخابی انچارج محمد انعام قریشی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ بعض اطلاعات کے مطابق ہیلی کاپٹر کے اترنے کے لیے ایک مخصوص مقام طے کیا گیا تھا، تاہم اسے دوسرے مقام پر اتارا گیا، جس پر انتخابی حکام نے کارروائی کی سفارش کی تھی۔


عدالتی کارروائی کے دوران احمد بخاری طویل عرصے تک پیش نہیں ہوئے تھے، جس کے باعث ان کے خلاف پہلے وارنٹ جاری کیے گئے۔ بعد ازاں عدالت نے ان کی مسلسل غیر حاضری کے پیش نظر غیر ضمانتی وارنٹ بھی جاری کیے تھے۔ جمعہ کو وہ دہلی سے اپنے وکلا کے ساتھ سخت سکیورٹی میں عدالت پہنچے، جہاں ان کے وکلا نے وارنٹ واپس لینے کی درخواست پیش کی۔

عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے وارنٹ منسوخ کر دیے اور 20-20 ہزار روپے کے دو مچلکوں پر ان کی ضمانت منظور کر لی۔ ذرائع کے مطابق ان کی پیشی کو انتظامیہ نے انتہائی محدود اور خفیہ رکھا تھا، جبکہ پولیس اور خفیہ ایجنسیاں صبح ہی سے الرٹ تھیں۔ میڈیا کو بھی ان کی آمد کی اطلاع کافی تاخیر سے مل سکی۔

عدالت سے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سید احمد بخاری نے کہا کہ انہیں کئی برسوں تک اس مقدمے اور اس سے متعلق درج ایف آئی آر کی معلومات نہیں تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب انہیں مقدمے اور وارنٹ کے بارے میں علم ہوا تو انہوں نے عدالت میں حاضر ہو کر قانونی عمل مکمل کرنے کا فیصلہ کیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔