بزنس ایڈوائزری کمیٹی میں طے ہوا 6 بلوں کا ایجنڈا، حکومت اور اپوزیشن میں بحث و تکرار کے آثار
میٹنگ کے اختتام پر لوک سبھا اسپیکر نے امید ظاہر کی کہ تمام اراکین پارلیمنٹ تعاون کے جذبے کے ساتھ کام کریں گے اور مانسون اجلاس کو باوقار، ہموار اور عوامی مفاد میں نتیجہ خیز بنائیں گے۔

پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس شروع ہونے سے ایک روز قبل اتوار کو لوک سبھا اسپیکر کی صدارت میں بزنس ایڈوائزری کمیٹی (بی اے سی) کی میٹنگ منعقد ہوئی۔ میٹنگ میں مانسون اجلاس کے دوران پیش کیے جانے والے بلوں پر لوک سبھا میں بحث کے لیے وقت مختص کیا گیا۔ اجلاس کے دوران 6 بل پیش کیے جائیں گے۔ یہ بل ہیں: غیر ملکی عطیات (ضابطہ) ترمیمی بل 2026، ایف سی آر اے ترمیمی بل، انکم ٹیکس (ترمیمی) بل 2026، سپریم کورٹ (ججوں کی تعداد) ترمیمی بل 2026، پیدائش اور اموات کا اندراج (ترمیمی) بل 2026، قومی اعزاز کی توہین کی روک تھام (ترمیمی) بل 2026 اور مائیکرو، چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کی ترقی (ترمیمی) بل 2026۔
برسراقتدار اور حزب اختلاف دونوں ہی طبقات نے اس پارلیمانی اجلاس کے لیے اپنی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ اس اجلاس کے پہلے ہی دن ہنگامہ ہونے کے پورے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔ حکومت راجیہ سبھا میں ’وندے ماترم بل‘ لا رہی ہے، جس کی اپوزیشن مخالفت کرے گا۔ اس کے علاوہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں چندہ چوری، نیٹ، ترنمول کانگریس کے اراکین پارلیمنٹ کو الگ گروپ کے طور پر حکومت کی جانب سے برتاؤ کیے جانے اور شیوسینا کے اراکین پارلیمنٹ کے انضمام کو لے کر زبردست ہنگامہ ہونے کا امکان ہے۔
اس سے قبل بزنس ایڈوائزری کی میٹنگ میں لوک سبھا میں نمائندگی کرنے والی تمام سیاسی پارٹیوں کے لیڈران کو مدعو کیا گیا اور ان سے عوامی مفاد سے متعلق اہم مسائل پر اپنی تجاویز دینے کو کہا گیا۔ میٹنگ کے دوران حکومت اور مختلف سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں نے مانسون اجلاس میں مجوزہ قانون سازی کے کام اور دیگر پارلیمانی امور کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ساتھ ہی ارکان نے قومی اہمیت اور عوامی مفاد کے کئی مسائل پر ایوان میں بحث کرانے کی تجویز بھی دی۔ اس درمیان لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے تمام پارٹیوں سے تعمیری بحث، بامعنی شرکت اور پارلیمانی روایات کی پاس داری کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ ’’پارلیمنٹ کی ہموار اور منظم کارروائی یقینی بنانا تمام پارٹیوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے، تاکہ عوام سے متعلق اہم مسائل پر وسیع اور مؤثر بحث ہو سکے۔‘‘
میٹنگ میں کمیٹی نے اراکین کی جانب سے دی گئی تجاویز کا نوٹس لیا۔ مختلف موضوعات پر بحث کا پروگرام اور وقت کی تقسیم پارلیمانی روایات کے مطابق حکومت اور سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں سے مشورہ کے بعد حتمی طور پر طے کی جائے گی۔ میٹنگ کے اختتام پر لوک سبھا اسپیکر نے امید ظاہر کی کہ تمام اراکین پارلیمنٹ تعاون کے جذبے کے ساتھ کام کریں گے اور مانسون اجلاس کو باوقار، ہموار اور عوامی مفاد میں نتیجہ خیز بنائیں گے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
