پٹرول اور ڈیزل کے بعد سی این جی بھی ہوئی مہنگی، ’ٹورنٹ گیس‘ نے بڑھائی قیمت

عالمی سطح پر اور خاص طور سے مغربی ایشیا میں حالات کشیدہ ہونے اور خام تیل کی سپلائی میں رکاوٹ کی وجہ سے ایندھن کی قیمتوں پر مسلسل دباؤ بنا ہوا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ٹورنٹ گیس، تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ملک میں ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا اثر اب مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ کمرشل گیس سلنڈر اور ہوائی جہاز میں استعمال ہونے والے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اب سی این جی کی قیمت بھی بڑھا دی گئی ہے۔ اس بار ’ٹورنٹ گیس‘ کمپنی نے سی این جی کی قیمت میں اضافہ کیا ہے۔ اس سے قبل ’نایرا‘ کمپنی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھا چکی ہیں۔ حالانکہ اب تک سرکاری تیل کمپنیوں کی جانب سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ اس وقت خام تیل کی قیمت تقریباً 110 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے، جس کا براہ راست اثر آہستہ آہستہ ملک کے مختلف ایندھنوں پر نظر آ رہا ہے۔

’ٹورنٹ گیس‘ کمپنی نے سی این جی کی قیمت میں 2 روپے 50 پیسے فی کلوگرام کا اضافہ کیا ہے۔ اس اضافے کے بعد عام لوگوں کی تشویش میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سے ان کے روز مرہ کے اخراجات پر اضافی بوجھ پڑے گا۔ جبکہ آٹو ڈرائیوروں نے بتایا کہ مسلسل ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے ان کی آمدنی پر براہ راست اثر پڑ رہا ہے اور منافع کم ہوتا جا رہا ہے۔


واضح رہے کہ سی این جی کی قیمت میں یہ اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب یکم اپریل سے کمرشل گیس سلنڈر کی قیمت بھی بڑھا دی گئی ہے۔ دہلی میں 19 کلوگرام والے کمرشل سلنڈر کی قیمت 195 روپے 50 پیسے کے اضافے کے ساتھ اب 2078 روپے اور 50 پیسے ہو گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی چھوٹے 5 کلوگرام والے سلنڈر بھی مہنگے ہو گئے ہیں۔ حالانکہ گھریلو گیس سلنڈر کی قیمت میں گزشتہ ماہ ہوئے اضافہ کے بعد اب کوئی نئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ عالمی سطح پر اور خاص طور سے مغربی ایشیا میں حالات کشیدہ ہونے اور خام تیل کی سپلائی میں رکاوٹ کی وجہ سے ایندھن کی قیمتوں پر مسلسل دباؤ بنا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہوائی جہاز میں استعمال ہونے والے ایندھن کی قیمت میں اضافہ ہو گیا ہے، جس کا اثر ہوائی سفر کے کرایہ پر پڑ رہا ہے۔ ان بڑھی ہوئی قیمتوں کا اثر ٹرانسپورٹ، ہوٹل کے کاروبار اور دیگر کئی شعبوں پر صاف طور پر دکھائی دے رہا ہے۔ تاجر اور عام صارفین دونوں ہی بڑھتے ہوئے اخراجات سے پریشان ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔