جنگ کا ایک ماہ: ایران مضبوط، امریکہ اسرائیل کمزور...سہیل انجم

ایران و امریکہ-اسرائیل میں ایک ماہ سے جاری جنگ میں ایران کو جانی و مالی نقصان ہوا مگر وہ اخلاقی طور پر مضبوط ہوا۔ امریکہ و اسرائیل کی عالمی ساکھ متاثر ہوئی، جبکہ ایران اندرونی طور پر مزید متحد ہو گیا

<div class="paragraphs"><p>اے آئی</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ایران کے خلاف امریکہ اور ایران کی جنگ کو ایک ماہ مکمل ہو گیا۔ عالمی سطح پر اس کا تجزیہ کیا جا رہا ہے کہ فریقین نے اس ایک ماہ کی جنگ میں کیا کھویا اور کیا پایا۔ تقریباً تمام تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ اگرچہ اس جنگ میں ایران کا جانی و مالی اعتبار سے بہت زیادہ نقصان ہوا ہے اور اس کے نقصان کے مقابلے میں امریکہ و اسرائیل کا جانی و مالی نقصان کم ہے لیکن اخلاقی طور پر امریکہ و اسرائیل کمزور ہوئے ہیں اور ایران مضبوط ہوا ہے۔ تاہم اس کمزوری اور مضبوطی کو نفع نقصان کے ترازو پر نہیں تولا جا سکتا لیکن یہ بات بالکل واضح ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی عالمی شبیہ داغدار ہوئی ہے اور ان کا سیاسی وزن کم ہوا ہے۔ جبکہ ایران کی اعلیٰ قیادت کے خاتمے کے باوجود عالمی سطح پر اس کی پوزیشن غیر متوقع طور پر مستحکم ہوئی ہے۔

امریکہ و اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں ایران میں دو ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای اور علی لاریجانی بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اس کا ہتھیاروں کا ذخیرہ بھی خالی ہوتا جا رہا ہے۔ جبکہ امریکہ اور ایران کی جانب سے ہونے والے حملوں میں روزانہ شدت آ رہی ہے۔ ادھر ایسا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ٹرمپ بری فوج ایران میں اتار سکتے ہیں۔ ایران کو بھی اس کا اندازہ ہے۔ لیکن اس نے اس کا مقابلہ کرنے کی بھی تیاری کر رکھی ہے۔ اس کے دس لاکھ فوجی جوان امریکہ کی بری فوج کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔


ادھر ٹرمپ کے روزانہ بدلتے بیانات نے بھی عالمی سطح پر ان کی ساکھ کمزور کی ہے۔ ان کے بیانات بعض اوقات بڑے اول جلول قسم کے آرہے ہیں۔ جب علی خامنہ ای کو ہلاک کر دیا گیا اور ان کے فرزند مجتبیٰ خامنہ ای کو رہبر اعلیٰ منتخب کر لیا گیا تو انھوں نے کہا کہ وہ اس انتخاب کو نہیں مانیں گے۔ کس کو رہبر چنا جائے کس کو نہیں اس میں انھیں بھی شامل کیا جانا چاہیے۔ حالانکہ کوئی بھی خود مختار اور آزاد ملک اس بات کو قطعاً قبول نہیں کرے گا کہ اس کے اندرونی معاملات میں کوئی بیرون طاقت مداخلت کرے چہ جائیکہ اعلیٰ رہنما کے انتخاب میں کسی دوسرے ملک کے صدر کو شامل کیا جائے۔ جب ایسا نہیں ہوا اور ایسا ہوتا بھی نہیں تو ٹرمپ نے بیان دیا کہ ایران نے ان کو یعنی ٹرمپ کو اپنے ملک کا رہبر اعلیٰ منتخب کرنے کی پیشکش کی ہے لیکن انھوں نے انکار کر دیا۔ اسی درمیان وہ یہ بیان بھی دیتے رہے کہ ایران سے بات چیت چل رہی ہے اور جلد ہی جنگ بند ہو جائے گی۔ ٹرمپ کے اس قسم کے بیان کے فوراً بعد ایران کی جانب سے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کا بیان آجاتا ہے جس سے ٹرمپ پوزیشن اور مضحکہ خیز ہو جاتی ہے۔

ٹرمپ اور نیتن یاہو کا خیال تھا کہ علی خامنہ ای کو ختم کرنے کے بعد ہی ایران کی حکومت کا تختہ پلٹ جائے گا اور وہ وہاں اپنی پسند کی حکومت قائم کر دیں گے۔ لیکن ان کا یہ خواب تادم تحریر شرمندہ تعبیر نہیں ہوا ہے۔ اعلیٰ قیادتوں کے خاتمے کے باوجود اس کی دفاعی پوزیشن مضبوط اور مستحکم ہے۔ ان دونوں رہنماؤں کا یہ بھی خیال تھا کہ وہ چند روز میں یہ جنگ جیت جائیں گے۔ نہ تو ان کو اور نہ ہی کسی اور کو یہ امید تھی کہ ایران اتنے دنوں تک لڑائی میں ٹکا رہے گا۔ نہ صرف ٹکا رہے گا بلکہ امریکہ و ایران کو کافی نقصان بھی پہنچائے گا۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو جلد از جلد اس جنگ کو جیت لینا چاہتے ہیں تاکہ اپنے ملک میں ان کی پوزیشن خراب نہ ہو۔ ٹرمپ اسی لیے بار بار یہ بیان دیتے ہیں کہ ایران کی کمر توڑ دی گئی۔ اس کو نیست و نابود کر دیا گیا۔ اور ہم جنگ جیت گئے ہیں۔ ان کے اس قسم کے ہر بیان کے فوراً بعد ایران کی جانب سے زوردار کارروائی کی جاتی ہے جس کی وجہ سے ان کے دعووں پر پانی پھر جاتا ہے۔


ایران نے اس درمیان ایک بہت بڑا اسٹریٹجک فیصلہ کیا اور وہ فیصلہ ہے آبنائے ہرمز کو بند کر دینا۔ کئی دنوں تک وہاں سے کوئی بھی جہاز نہیں گزر سکا۔ اب اس نے اپنے دوست ملکوں کو جن میں ہندوستان بھی شامل ہے وہاں سے اپنے جہاز گزرنے کی اجازت دے دی ہے۔ ٹرمپ نے نیٹو ملکوں سے اور یوروپی ملکوں سے اپیل کی کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے لیے آگے آئیں۔ لیکن ان کی اس اپیل پر کسی نے کان نہیں دھرا۔ کوئی بھی ان کی مدد کو نہیں آرہا ہے جس پر وہ ان ملکوں کو دھمکی دے رہے ہیں کہ وہ یاد رکھیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان ملکوں کو امریکہ نے اربوں ڈالر دیے لیکن جب اس پر وقت پڑا تو وہ ملک ساتھ نہیں دے رہے ہیں۔ گویا وہ یہ مان رہے ہیں کہ ان پر برا وقت پڑ گیا ہے۔ لیکن یہ برا وقت تو ان کا خود لایا ہوا ہے۔ امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے تو صاف صاف کہہ دیا ہے کہ امریکہ کو اس جنگ میں اسرائیل نے پھنسایا ہے۔ حالانکہ نیتن یاہو نے اس کی تردید کی ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ ٹرمپ ان کے جھانسے میں آگئے ہیں۔ اب جے ڈی وینس کہہ رہے ہیں کہ اسرائیلی خفیہ محکمہ موساد کا کہنا تھا کہ چند روز میں ایران کا خاتمہ ہو جائے لیکن کہاں خاتمہ ہوا۔

جنگ شروع ہونے سے کچھ پہلے ایران میں حکومت مخالف مظاہرے ہو رہے ہیں جن میں بڑی تعداد میں لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ ٹرمپ کا خیال تھا کہ جنگ شروع ہوتے ہی حکومت مخالف عناصر کھل کر سامنے آجائیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ بلکہ اب تو صورت حال یہ ہے کہ سبھی حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں۔ کہیں سے ایک بیان بھی حکومت کے خلاف نہیں آرہا ہے۔ دراصل حکومت مخالف عناصر کو بھی اس بات کا احساس ہے کہ ان کے ملک پر جنگ تھوپی گئی ہے۔ لہٰذا انھیں اپنے ملک کا ساتھ دینے کی ضرورت ہے۔

دراصل ایران کی اس مضبوطی کے پس پردہ ایک تاریخ موجود ہے جو کربلا کی جنگ سے عبارت ہے۔ یہ تاریخی واقعہ ہر نازک موقع پر ایران کے حوصلے بلند کرتا ہے۔ ایرانیوں کا کہنا ہے کہ وہ حسین والے ہیں اور حسین والے ظالم کے آگے کبھی بھی سرتسلیم خم نہیں کرتے۔ امریکہ اور اسرائیل ظالم ہیں اور ایرانی مظلوم۔ لہٰذا وہ ظالم کے سامنے جھکنے کو تیار نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ بھی ہزاروں سال کی اس کی ثقافتی تاریخ ہے جو اسے حوصلہ دیتی ہے۔ بہرحال مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے اور اس بات پر بیشتر تجزیہ کار متفق بھی ہیں کہ اس جنگ نے اگر چہ ایران کو کافی جانی و مالی نقصان پہنچایا ہے لیکن اس کے باوجود وہ نہ صرف اب بھی سینہ تانے کھڑا ہے بلکہ وہ اخلاقی اعتبار سے مزید مضبوط ہوا ہے۔ جبکہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کی پوزیشن پوری دنیا میں بے حد خراب ہو گئی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔