’ووٹنگ کا حق خطرے میں‘، جسٹس اُجول بھوئیاں کے بعد جسٹس نریمن نے بھی کیا اظہارِ فکر
جسٹس روہنٹن فالی نریمن نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مغربی بنگال میں 90 لاکھ ووٹرز کے نام کٹنے کے باوجود سپریم کورٹ نے ووٹر لسٹ کے ایس آئی آر پر روک لگانے کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا۔

ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے خلاف آواز اٹھنے کا سلسلہ دن بہ دن دراز ہوتا جا رہا ہے۔ الیکشن کمیشن پر ووٹرز کے نام حذف کرنے اور ان کے حقِ رائے دہی کو نظر انداز کرنے کے الزامات نے گزشتہ کچھ دنوں میں سیاسی ہلچل کو خوب بڑھا دیا ہے۔ اس معاملے پر ججوں نے بھی آواز بلند کرنی شروع کر دی ہے۔ جسٹس اجول بھوئیاں کے بعد جسٹس روہنٹن فالی نریمن نے بھی ایس آئی آر معاملہ پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس روہنٹن فالی نریمن نے الیکشن کمیشن آف انڈیا کے کام کاج پر فکر ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’آپ ایسا الیکشن کمیشن نہیں رکھ سکتے جو اس طرح کام کرے یا ٹھیک سے کام نہ کرے۔‘‘
جسٹس نریمن نے یہ تشویش ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران بڑی تعداد میں ووٹرز کے نام حذف کیے جانے اور ان رپورٹس کی بنیاد پر ظاہر کی، جن میں کہا گیا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر نے دیگر 2 الیکشن کمشنرز کے اعتراضات کو نظرانداز کرتے ہوئے کئی اہم فیصلے کیے۔ جسٹس نریمن نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مغربی بنگال میں 90 لاکھ ووٹرز کے نام حذف کیے جانے کے باوجود سپریم کورٹ نے ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی پر روک لگانے کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا۔
جسٹس نریمن نے الیکشن کمشنرز کی تقرری کو مکمل طور پر موجودہ حکومت کے ہاتھوں میں چھوڑنے کو ’خطرے کی گھنٹی‘ (ریڈ فلیگ) قرار دیا۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس سے ووٹ دینے کا حق بہت بڑے خطرے میں پڑ گیا ہے۔ سپریم کورٹ کو ’چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنرز ایکٹ‘ کی قانونی حیثیت پر جلد از جلد فیصلہ کرنا چاہیے۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ کے جسٹس اجول بھوئیاں نے بھی ایس آئی آر معاملہ پر اٹھائے گئے سوالات کو فکر انگیز ٹھہرایا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’’مردہ ووٹر کے معاملے کو چھوڑ کر، ایک بار ووٹر لسٹ میں نام شامل ہو جانے کے بعد، بغیر نوٹس اور سماعت کے اسے حذف نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ووٹ دینے یا ووٹر لسٹ میں شامل ہونے کے حق کو ہندوستانی شہری کی شناخت سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
