جموں و کشمیر: فائر سروس پیپر لیک معاملے میں اے سی بی کی بڑی کارروائی، 12 ملزمان گرفتار

اینٹی کرپشن بیورو نے ’ایف ای ایس‘ بھرتی پیپر لیک اسکینڈل کے سلسلے میں 12 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ اسے ہائی پروفائل بھرتی دھوکہ دہی کی جاری تحقیقات میں بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>امتحان، تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i

اینٹی کرپشن بیورو (اے سی بی) نے جموں و کشمیر فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز (ایف ای ایس) بھرتی پیپر لیک اسکینڈل کے سلسلے میں مزید 12 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ اسے ہائی پروفائل بھرتی دھوکہ دہی کی جاری تحقیقات میں بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ہندی نیوز پورٹل ’ٹی وی 9 بھارت ورش‘ پر آفیشیل ذرائع کے حوالے سے شائع خبر کے مطابق یہ گرفتاریاں ایف آئی آر نمبر01/2025 کی تفتیش کے دوران کی گئیں، جو بھرتی امتحان کے پیپر لیک ہونے اور بے ضابطگیوں کے پیچھے بڑی مجرمانہ سازش کی تحقیقات کے لیے درج کی گئی تھی۔ ملزمان کو مسلسل تحقیقات اور ثبوت جمع کرنے کے بعد حراست میں لیا گیا۔

نئے گرفتار ہونے والے ملزمان کی شناخت چدورہ (بڈگام) کے عبدالمجید غنی، بجبہیڑا (اننت ناگ) کے بلال احمد حلوائی، ہاجن (بانڈی پورہ) کے ارشاد الحمید حکیم، سنبل (بانڈی پورہ) کے شاہنواز احمد خان، چدورہ (بڈگام) کے علی محمد بھٹ، سوئی بگ (بڈگام) کے شبیر احمد ملک، دھرمونہ (بڈگام) کے محمد اکرم بھٹ، تنگمرگ کے مشتاق احمد راٹھی، چدورہ (بڈگام) کے سمیر اللہ راتھر، کاکاپورہ (پلوامہ) کے مظفر احمد بھٹ، فاگسو (ڈوڈہ) کے ذاکر حسین اور جموں کے سنجے دتا کے طور پر ہوئی ہے۔


افسران نے کہا کہ یہ نئی گرفتاریاں اے سی بی کی اس کوشش کا حصہ ہے، جس کے تحت مبینہ پیپر لیک میں شامل پورے نیٹورک کا پتہ لگایا جا رہا ہے۔ تمام فائدہ اٹھانے والے افراد کی شناخت کی جا رہی ہے۔ بھرتی کے عمل کی شفافیت سے سمجھوتہ کرنے والے ہر ملزم کے کردار کا پتہ لگایا جا رہا ہے۔ تحقیقاتی ایجنسی نے اشارہ دیا ہے کہ تفتیش کئی محاذوں پر آگے بڑھ رہی ہے اور مستقبل میں گرفتاری، تلاشی اور قانونی کارروائی سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ جموں و کشمیر فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز (ایف ای ایس) کی بھرتی میں ہونے والا پرچہ لیک گھوٹالہ ایک گہری ملی بھگت کا نتیجہ تھا۔ اس میں 2020 میں فائرمین اور فائرمین ڈرائیور کے عہدوں پر ہونے والی بھرتی میں بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوئی۔ پیپر لیک کے علاوہ پسندیدہ افراد کو ملازمت دلانے کے لیے رشوت خوری، اقربا پروری (اپنے لوگوں کو ترجیح) اور سسٹم میں ہیرا پھیری کی گئی۔