عام آدمی پارٹی لیڈر ستیندر جین کو اے سی بی کیس میں راحت، راؤز اوینیو کورٹ نے دی ضمانت
عام آدمی پارٹی لیڈر ستیندر جین کو دہلی جل بورڈ کے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ منصوبوں کی ٹینڈرنگ میں مبینہ بے ضابطگیوں کے کیس میں راؤز ایونیو کورٹ نے ضمانت دے دی

نئی دہلی: عام آدمی پارٹی (عآپ) کے رہنما اور دہلی کے سابق وزیر ستیندر جین کو سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ منصوبوں کی ٹینڈرنگ میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق کیس میں جمعرات کو راؤز ایونیو کورٹ سے ضمانت مل گئی۔ خصوصی جج (انسدادِ بدعنوانی قانون) دگ ونے سنگھ نے ستیندر جین کو 2 لاکھ روپے کے مچلکہ اور اتنی ہی رقم کے دو ضمانتی مچلکوں پر ضمانت دی۔
ستیندر جین کو دہلی کے اے سی بی نے 18 اگست کو گرفتار کیا تھا۔ ان کے خلاف دہلی جل بورڈ (ڈی جے بی) کے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کو اپ گریڈ کرنے کے منصوبوں کے لیے ٹینڈرنگ کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے میں کارروائی کی گئی تھی۔
یہ مقدمہ مئی 2024 میں ڈائریکٹوریٹ آف ویجیلنس کی شکایت کے بعد درج کیا گیا تھا۔ کیس میں دہلی جل بورڈ کے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کو اپ گریڈ کرنے سے متعلق ٹھیکوں میں ٹینڈر کی شرائط میں ہیر پھیر، مجرمانہ سازش اور رشوت کی مشتبہ ادائیگیوں کے الزامات شامل ہیں۔
ستیندر جین کے خلاف انسدادِ بدعنوانی قانون اور انڈین پینل کوڈ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ انہیں جمعرات کو عدالتی حراست کی مدت ختم ہونے کے بعد راؤز ایونیو کورٹ میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے ضمانت کی درخواست پر فیصلہ سنایا۔ اس سے قبل 19 اگست کو عدالت نے ستیندر جین کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دینے سے انکار کر دیا تھا۔
معاملہ کیا ہے؟
انسدادِ بدعنوانی بیورو کی تحقیقات کا مرکز 2021-22 میں دہلی جل بورڈ کے 5 سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کی اپ گریڈیشن اور توسیع کا ٹھیکہ ہے، جب ستیندر جین وزیرِ آب تھے۔ اے سی بی کا الزام ہے کہ ٹینڈر کی شرائط اور کام کے دائرہ کار میں مبینہ تبدیلیاں کرکے مقابلہ محدود کیا گیا اور یوروٹیک انوائرمنٹ کو فائدہ پہنچایا گیا۔ ایجنسی کے مطابق روہنی پلانٹ کی صلاحیت 15 ایم جی ڈی سے بڑھا کر 25 ایم جی ڈی کرنے کی منظوری کسی تکنیکی سفارش یا فزیبلٹی اسٹڈی کے بغیر دی گئی۔
روہنی اور نریلا پلانٹس کو شامل جبکہ اوکھلا فیز 5 پلانٹ کو نکالنے سے تقریباً 123 کروڑ روپے کی لاگت بڑھنے کا بھی الزام ہے۔ اے سی بی نے رقم مبینہ طور پر درمیانی افراد کے ذریعے منتقل کیے جانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ کیس میں ستیندر جین سمیت پانچ افراد گرفتار کیے گئے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
