راگھو چڈھا پر پارٹی قیادت کے سخت الزامات، ’مودی کے خلاف بولنے سے گھبراتے ہو‘

عام آدمی پارٹی میں اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں، جہاں راگھو چڈھا پر پارٹی قیادت نے خاموشی، غیر فعالیت اور اہم سیاسی معاملات پر مؤقف نہ اپنانے کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں

<div class="paragraphs"><p>سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

عام آدمی پارٹی میں اندرونی اختلافات اب کھل کر سامنے آ گئے ہیں، جہاں پارٹی کے سینئر رہنماؤں نے رکن پارلیمان راگھو چڈھا پر سخت تنقید کرتے ہوئے ان کی وفاداری اور سیاسی سرگرمیوں پر سوال اٹھائے ہیں۔ پارٹی کے میڈیا انچارج انوراگ ڈھانڈا اور رہنما سوربھ بھاردواج نے چڈھا کے رویے کو نہ صرف غیر مؤثر بلکہ پارٹی کی لائن سے ہٹ کر قرار دیا ہے۔

انوراگ ڈھانڈا نے کھلے الفاظ میں کہا کہ راگھو چڈھا گزشتہ چند برسوں سے خوف کا شکار نظر آتے ہیں اور وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف بولنے سے گھبراتے ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ جو شخص ڈر جائے وہ ملک کے لیے کیسے لڑ سکتا ہے۔ ڈھانڈا نے یہ بھی کہا کہ پارلیمان میں پارٹی کو جو محدود وقت ملتا ہے، اسے سنجیدہ قومی مسائل اٹھانے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے، نہ کہ معمولی معاملات جیسے ’ایئرپورٹ کینٹین میں سموسے سستے کرانے‘ کے لیے۔

سوربھ بھاردواج نے بھی چڈھا کو نشانہ بناتے ہوئے سوال کیا کہ کیا انہوں نے گجرات میں گرفتار کیے گئے پارٹی کارکنوں کے حق میں آواز اٹھائی؟ انہوں نے مغربی بنگال میں جمہوریت سے متعلق معاملات پر بھی چڈھا کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمان میں محدود وقت کا مؤثر استعمال ضروری ہوتا ہے، مگر چڈھا اس ذمہ داری کو نبھاتے نظر نہیں آ رہے۔


پارٹی کے اندر ناراضگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب یہ بات سامنے آئی کہ اہم مواقع پر، جب پارٹی نے ایوان سے واک آؤٹ کیا، راگھو چڈھا اپنی نشست پر موجود رہے۔ اس کے علاوہ چیف الیکشن کمشنر کے خلاف پیش کیے گئے ایک معاملے پر دستخط نہ کرنے کا الزام بھی ان پر لگایا گیا، جسے پارٹی قیادت نے سنجیدگی سے لیا ہے۔

اسی کشیدگی کے درمیان عام آدمی پارٹی نے راجیہ سبھا سکریٹریٹ کو خط لکھ کر راگھو چڈھا کو ایوان میں پارٹی کے نائب لیڈر کے عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی ہے اور ان کی جگہ اشوک متل کا نام پیش کیا ہے۔ خط میں یہ بھی کہا گیا کہ چڈھا کو پارٹی کے کوٹے کے تحت بولنے کے لیے وقت نہ دیا جائے۔

دوسری جانب راگھو چڈھا نے ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ ان کی خاموشی کو کمزوری یا شکست نہ سمجھا جائے۔ تاہم پارٹی کے اندر جاری اس تنازع نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے اور یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آیا آپ اس اختلاف کو سنبھال پائے گی یا نہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔