رواں ماہ طلب کیا جا سکتا ہے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس، خاتون ریزرویشن اور حد بندی بل پیش کرنے کا امکان!

خصوصی اجلاس طلب کیے جانے سے تقریباً ایک ہفتہ قبل اس کی جانکاری دی جا سکتی ہے۔ پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس 13 اگست کو ختم ہوا تھا، لیکن اس کے حتمی اختتام کا اعلان اب تک نہیں کیا گیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>پارلیمنٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس</p></div>
i

پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس رواں ماہ کے آخر میں بلایا جا سکتا ہے۔ حکومت اس اجلاس میں حد بندی اور خواتین کے ریزرویشن سے متعلق آئینی ترمیمی بل پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت کو یقین ہے کہ لوک سبھا میں ان بلوں کو منظور کرانے کے لیے اس کے پاس مطلوبہ تعداد موجود ہے۔ یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اپوزیشن ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج تیز کر رہی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مودی حکومت کو امید ہے کہ وہ ڈی ایم کے اور کچھ چھوٹی اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ بات چیت کر حد بندی اور خواتین کے ریزرویشن سے متعلق آئینی ترمیم کے بل کو پاس کرا لے گی۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ حکومت لوک سبھا میں اپنی عددی طاقت کو لے کر پُراعتماد ہے۔ اسی اعتماد کے ساتھ وہ خصوصی اجلاس بلا کر مجوزہ قانون کو آگے بڑھانا چاہتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ اپوزیشن پارٹیوں سے رابطہ کر کے حمایت حاصل کرنے کی کوشش بھی کر رہی ہے۔


قابل ذکر ہے کہ پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس 13 اگست کو ختم ہو گیا تھا، لیکن اس کے اب تک حتمی اختتام، یعنی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرنے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اجلاس ختم ضرور ہو گیا ہے، لیکن اسے باضابطہ طور پر بند نہیں کیا گیا ہے۔ اسی وجہ سے خصوصی اجلاس بلانے کا راستہ کھلا ہوا ہے۔ حکومت فی الحال اجلاس کی تاریخوں اور پروگرام کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہے۔

غور کرنے والی بات یہ ہے کہ جب چند ماہ قبل ہی حکومت کو پارلیمنٹ میں دھچکا لگ چکا ہے۔ بجٹ اجلاس کے دوران 17 اپریل کو حد بندی اور لوک سبھا و ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے ریزرویشن کو نافذ کرنے سے متعلق آئینی ترمیمی بل لوک سبھا میں منظور نہیں ہو سکا تھا۔ یعنی اسے مطلوبہ حمایت حاصل نہیں ہو پائی تھی۔ اب حکومت اسی معاملے پر دوبارہ کوشش کرنے کی تیاری کرتی دکھائی دے رہی ہے۔


ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بار حکومت دراوڑ منیترا کژگم یعنی ڈی ایم کے سے بات چیت کر رہی ہے۔ یہ رابطہ تمل ناڈو انتخابات کے بعد ڈی ایم کے کے کانگریس سے الگ ہونے اور انڈیا اتحاد سے باہر نکلنے کے بعد شروع ہوا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت کچھ چھوٹی اپوزیشن پارٹیوں کے بھی رابطے میں ہے۔ اس کا مقصد ووٹنگ سے پہلے اپنی عددی طاقت کو مضبوط کرنا ہے۔

مودی حکومت نے جب حد بندی اور خواتین کے ریزرویشن کے بل منظور کرانے کے لیے 15 سے 17 اپریل تک 3 روزہ خصوصی اجلاس بلایا تھا، تو اس وقت بھی دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ بل پاس ہو جائیں گے۔ حالانکہ مودی حکومت کو حد بندی اور خواتین کے ریزرویشن، دونوں ہی بل پاس کرانے میں ناکامی ہوئی۔ اس وقت خواتین سے متعلق ریزرویشن میں آئی ترمیم والے بل پر ووٹنگ میں 528 اراکین پارلیمنٹ نے حصہ لیا تھا۔ بل کے حق میں 298 اور مخالفت میں 230 ووٹ پڑے تھے۔ بل منظور کرانے کے لیے 2 تہائی اکثریت ضروری تھی۔ 528 کا 2 تہائی 352 ہوتا ہے۔ اس طرح بل 54 ووٹوں سے ناکام ہو گیا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔