مہینے کی پہلی تاریخ کو لگا مہنگائی کا زوردار جھٹکا، کمرشیل گیس سلنڈر کی قیمت میں 993 روپے کا اضافہ
19 کلو والے کمرشیل گیس سلنڈر کی قیمت میں آج سے 993 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس اضافہ کے بعد دہلی میں 19 کلوگرام والے سلنڈر کی قیمت 3071 روپے ہو گئی ہے۔

ایران میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی سے پیدا غیر یقینی والی حالت میں ایل پی جی سلنڈر کی قیمت بڑھنے کا اندیشہ پہلے سے ہی ظاہر کیا جا رہا تھا، اور اب اس پر مہر بھی لگ گئی ہے۔ مہینے کی پہلی تاریخ کو ہی مہنگائی کا زوردار جھٹکا لگا ہے، کیونکہ کمرشیل ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں 993 روپے کا بڑا اضافہ کیا گیا ہے۔
یکم مئی کو 19 کلوگرام والے کمرشیل گیس سلنڈر کی قیمت میں اضافہ کے بعد نئی قیمت جاری کی گئی۔ آج سے ہوئے 993 روپے اضافہ کے بعد دہلی میں 19 کلوگرام والے سلنڈر کی قیمت 3071.50 روپے ہو گئی ہے۔ اس اضافہ کے بعد ممبئی میں کمرشیل سلنڈر کی قیمت ممکنہ طور پر 3024 روپے اور کولکاتا میں 3201.50 روپے ہو جائے گی۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ 14.2 کلوگرام والے گھریلو گیس سلنڈر کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ حالانکہ اس میں بھی جلد اضافہ کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ رواں سال لگاتار تیسری بار ہے جب کمرشیل سلنڈر کی قیمت میں تبدیلی کی گئی ہے۔ سب سے پہلے یہ اضافہ 7 مارچ کو 144 روپے کا ہوا تھا، اس کے بعد یکم اپریل کو مزید 200 روپے فی سلنڈر بڑھائے گئے تھے، اور اب 993 روپے فی سلنڈر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ یعنی 2 ماہ میں ہی کمرشیل ایل پی جی سلنڈر کی قیمت 1337 روپے بڑھ گئی ہے۔
راحت کی بات یہ ہے کہ گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں رواں سال صرف ایک بار مارچ ماہ میں 60 روپے کا اضافہ کیا گیا تھا۔ دہلی میں اس وقت گھریلو سلنڈر کی قیمت 913 روپے، ممبئی میں 912.50 روپے، چنئی میں 928.50 روپے اور کولکاتا 939 روپے ہے۔ حالانکہ گھریلو ایل پی جی کا بحران ملک میں جاری ہے اور کالابازاری بھی خوب دیکھنے کو مل رہی ہے۔ اب بھی مختلف شہروں میں گھریلو ایل پی جی 2500 سے 3000 روپے تک میں مل رہے ہیں۔ اس مہنگائی کی وجہ ایران میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں جاری ناکہ بندی ہے۔ اس وجہ سے ایندھن لدے ہوئے جہاز آبنائے ہرمز سے گزر نہیں پا رہے ہیں اور ہندوستان سمیت دنیا کے کئی ممالک کو ایندھن بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ہندوستان ایل پی جی کی اپنی ضروریات کا تقریباً 60 فیصد حصہ درآمد کرتا ہے۔ 28 فروری کو ایران پر امریکہ و اسرائیل کے حملوں اور اس پر تہران کی جوابی کارروائی سے قبل ہندوستان کے نصف سے زیادہ خام تیل کی درآمدگی تقریباً 30 فیصد گیس اور 90-85 فیصد ایل پی جی کی درآمد مغربی ایشیائی ممالک (مثلاً سعودی عرب اور یو اے ای وغیرہ) سے ہوتی تھی۔ اب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے سبب تیل مارکیٹنگ کمپنیاں دباؤ میں ہیں۔ ہندوستان نے روس جیسے ممالک سے تیل خرید کر خام تیل کی سپلائی میں آئی رکاوٹوں کا کچھ حد تک ازالہ کر لیا ہے، لیکن صنعتی استعمال کرنے والوں کے لیے گیس کی فراہمی میں تخفیف کرنی پڑی ہے۔ ساتھ ہی ہوٹلوں اور ریسٹورینٹ جیسے کمرشیل اداروں کے لیے ایل پی جی کی دستیابی بھی کم کر دی گئی ہے۔