غریب رتھ ایکسپریس میں خاتون مسافر کو سانپ نے ڈسا! ایک ہفتہ سے اسپتال میں چل رہا علاج
مسافروں نے پورے معاملے کی آزادانہ جانچ کرانے، متعلقہ کوچ کا تکنیکی اور حفاظتی معائنہ کرنے اور غفلت ثابت ہونے کی صورت میں ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ملک میں محفوظ اور آرام دہ ریل سفر کے دعوؤں کے درمیان غریب رتھ ایکسپریس (جس میں سبھی کوچ اے سی ہوتے ہیں) میں ایک خاتون کو مبینہ طور پر سانپ کے ڈسنے کے شبہ نے ریلوے کی سیکورٹی اور دیکھ بھال کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اس واقعہ کے بعد مسافروں میں خوف و ہراس کا ماحول ہے۔ لوگ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر زہریلے جانور اے سی کوچ تک پہنچ سکتے ہیں تو آخر مسافروں کی حفاظت کی ذمہ داری کس کی ہے؟
بتایا جا رہا ہے کہ میدنی نگر شہر تھانہ علاقہ کے بیریا کی رہائشی رم جھم سنگھ 3 جولائی کی شب ڈالٹین گنج سے نئی دہلی جانے کے لیے غریب رتھ ایکسپریس کی جی-12 بوگی میں سوار ہوئی تھیں۔ ٹرین روانہ ہونے کے تقریباً 15 منٹ بعد انہیں اچانک بہت زیادہ پسینہ آنے لگا، گھبراہٹ محسوس ہوئی اور پیر میں ناقابل برداشت درد شروع ہو گیا۔ ابتدائی جانچ میں ٹرین میں موجود ڈاکٹر نے سانپ کے ڈسنے کا شبہ ظاہر کیا۔ اس کے بعد گڑھوا روڈ جنکشن پر خاتون اور ان کے بچوں کو ٹرین سے اتار دیا گیا۔ خاتون کچھ دیر تک اسٹیشن پر ہی رہیں۔ اطلاع ملنے پر اہل خانہ وہاں پہنچے اور انہیں گڑھوا صدر اسپتال لے گئے، جہاں ابتدائی علاج کے بعد بہتر علاج کے لیے ریفر کر دیا گیا۔
فی الحال رم جھم سنگھ میدنی نگر کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ یعنی ایک ہفتہ سے ان کا علاج چل رہا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق ان کی حالت میں بہتری آ رہی ہے اور گھبرانے جیسی کوئی بات نہیں ہے۔ اس واقعہ کے بعد ریلوے کے کوچوں کی دیکھ بھال، صفائی اور پیسٹ کنٹرول کے انتظامات پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ اگر ریلوے باقاعدہ معائنہ، صفائی اور فیومیگیشن کے دعوے کرتا ہے تو پھر اے سی کوچ میں زہریلے جانور کے پہنچنے کا شبہ کیسے پیدا ہوا؟ مسافروں نے پورے معاملے کی آزادانہ جانچ کرانے، متعلقہ کوچ کا تکنیکی اور حفاظتی معائنہ کرنے، صفائی اور پیسٹ کنٹرول کے نظام کا جائزہ لینے اور غفلت ثابت ہونے کی صورت میں ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
