فاطمہ اکیڈمی میں مسابقہ برائے قراءتِ قرآن کریم و خطابت کا انعقاد، طلبہ اور ان کے معلمین کو انعامات سے نوازا گیا
پروگرام کا آغاز فاطمہ اکیڈمی کے طالبِ علم محمد حذیفہ بن اشرف کی تلاوتِ قرآنِ کریم سے ہوا۔ اس کے بعد دار ارقم کی طالبہ نوری بنت غیاث الدین نے نعت پیش کی۔

نئی دہلی: آج فاطمہ اکیڈمی کے زیر اہتمام مسابقہ قراءتِ قرآن کریم و خطابت کا فائنل منعقد کیا گیا۔ اس مسابقہ میں دینیات منظم مکاتب برائے دہلی و این سی آر کے کل 8 سینٹرز میں زیر تعلیم جماعت پنجم کے طلباء و طالبات نے حصہ لیا۔ فنِ تجوید و خطابت کی ترویج و اشاعت کے مقصد سے منعقدہ اس تقریب کے بارے میں فاطمہ اکیڈمی کے صدر اعجاز نور نے بتایا کہ یہ مسابقہ کئی مراحل پر مشتمل تھا اور آج اس کا اختتام ہوا۔
پروگرام کا آغاز فاطمہ اکیڈمی کے طالبِ علم محمد حذیفہ بن اشرف کی تلاوتِ قرآنِ کریم سے ہوا۔ اس کے بعد دار ارقم کی طالبہ نوری بنت غیاث الدین نے نعت پیش کی اور فاطمہ اکیڈمی ہی کی عجوہ بنت اشرف نے سیرت النبی ﷺ پر بیان کیا۔ مسابقہ کی شروعات فرع اوّل قراءت قرآن کریم سے ہوئی۔ اس میں مساہم نے ٹوکن پر درج آیات کی تلاوت کی اور ان آیات پر مشتمل قواعد کے 2 سوالوں کے جواب دیئے۔ فرع ثانی خطابت میں شرکاء کو اپنی تقریر 5 منٹ میں مکمل کرنی تھی۔ سبھی سینٹرز کے بچوں نے عظمتِ قرآن سے لے کر استاذ کی عظمت جیسے مختلف موضوعات پر تقاریر کیں۔ فرع اوّل قراءت قرآن کریم و فرع ثانی خطابت میں طلباء و طالبات کو الگ الگ انعامات سے نوازا گیا۔
اس تقریب کی خصوصیت یہ رہی کہ نہ صرف طلباء بلکہ ان کے معلم یا معلمہ کو بھی انعامات دیئے گئے۔ فرع اوّل قراءت قرآن کریم برائے طلباء میں محمد ریان بن محمد جیلانی، محمد معاذ بن اظہار اور عائض بن فیصل نے بالترتیب اوّل، دوم و سوم پوزیشن حاصل کی۔ فرع ثانی یعنی خطابت میں محمد ارمان بن قمرالدین، ابو بکر بن محمد عامر اور حمزہ بن محمد عارف نے امتیازی مقام حاصل کیا۔ اسی طرح طالبات میں قراءت قرآن کریم میں مبشرہ بنت محمد مستقیم، زینب بنت محمد کلیم اور رہنما بنت محمد رضوان اوّل، دوم اور سوم پوزیشن پر رہیں جبکہ فرع خطابت میں عفیفہ بنت نعیم ، زینب بنت ضمیر احمد اور مہک بنت افضال کامیابی درج کی۔
اس تقریب میں دینیات منظم مکاتب کے ناظم تعلیمات مفتی حسام الدین، مولانا غیور الحسن مظاہری اور مولانا محمد ارشاد نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔ مولانا مفتی محمد زبیر قاسمی استاذ حدیث مدرسہ حسین بخش دہلی، مولانا قاری مستجاب احمد قاسمی استاذ شعبہ حفظ و تجوید منڈولی اور قاری محمد عثمان قاسمی امام و خطیب مسجد دری والی شاہ گنج دہلی نے طلباء کو کسوٹی پر پرکھا اور بعد ازاں اپنے تاثرأت بھی پیش کئے۔ مولانا مفتی محمد زبیر قاسمی نے بتایا کہ میں الحمدللہ اول تا آخر اس مسابقہ میں شریک رہا۔ تمام طلباء و طالبات نے بہت ہی اچھا کردار ادا کیا بلکہ دلی بات یہ ہے کہ مجموعی طور پر کارگزاری بعض مدارس سے بھی اچھی تعلیم کا اندازہ ہوا، اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔
قاری محمد عثمان قاسمی نے کہا کہ مسابقہ دو فرع پر مشتمل تھا قرآن کریم اور خطابت۔ تمام طلباء قابل مبارک باد ہیں اور اساتذہ بھی۔ خصوصی طور پر خطابت میں نمبر دینے میں بڑی دشواری پیش آئی۔ مولانا قاری مستجاب احمد قاسمی نے کہا کہ تمام طلباء نے بہت ہی عمدہ قرآن کریم پڑھا، یہ سب ایک گھنٹے پڑھنے آنے والوں کی محنت، جس سے اساتذہ اور ذمہ داران کی محنت کا اندازہ ہوتا ہے۔ صبح نو بجے سے جاری یہ تقریب بعد ظہر اختتام پذیر ہوئی۔ اس پروگرام میں طلباء و طالبات کے والدین، معلمین اور دینیات منظم مکاتب کے صدر دلشاد عالم صاحب و دیگر ذمہ داران و معاونین کے علاوہ بڑی تعداد میں سماجی و مذہبی شخصیات و علاقہ کے معزز افراد نے شرکت کی اور مسابقہ کو کامیابی سے ہمکنار کرایا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
