’90 فیصد پانی پینے لائق نہیں‘، کانگریس صدر کھڑگے نے گجرات کی بی جے پی حکومت پر عائد کیا سنگین الزام
گجرات اسمبلی کے مانسون اجلاس کے آخری دن سی اے جی کی رپورٹ پیش کی گئی۔ اس رپورٹ میں پایا گیا ہے کہ جن گاؤں سے پانی کے نمونے لیے گئے، ان میں سے 89 فیصد پانی کے نمونے پینے کے قابل نہیں تھے۔

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے گجرات کی بی جے پی حکومت کو آج اپنے ایک بیان میں عوام مخالف ٹھہرایا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ ریاست میں اپنے 27 سالہ دور حکومت میں بی جے پی نے صرف جھوٹے دعوے کیے اور پروپیگنڈا پھیلایا۔ انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کیا ہے جس میں سی اے جی کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے گجرات حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کچھ گاؤں کا پانی آلودہ ہے اور وہ پینے لائق نہیں ہے۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ ’’وزیراعظم مودی کے ’ہر گھر جل‘ کے دعوے آلودہ پانی میں بہہ گئے ہیں۔‘‘ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ریاست میں 90 فیصد پانی کے نمونے پینے کے قابل بھی نہیں پائے گئے۔
کانگریس صدر نے اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’جب مودی جی وزیر اعلیٰ تھے، تب 2004 میں ’سجلم-سفلم‘ منصوبے کا بہت شور شرابہ کیا گیا، لیکن آج بھی گجرات کے لوگ پانی کی ایک بوند کے لیے ترس رہے ہیں۔‘‘ انھوں نے الزام لگایا کہ سی اے جی نے 2022 میں 100 فیصد نل کنکشن کے بی جے پی حکومت کے دعوے کی قلعی کھول دی اور 14 لاکھ خاندان اب بھی پانی کا انتظار کر رہے ہیں۔
راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھڑگے نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ ہفتہ احمد آباد ضلع کے ڈھولکا میں آلودہ پانی پینے سے کینسر کے سبب 54 افراد کی موت کی خبر سامنے آئی۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ سوراشٹر کے کئی علاقے پینے کے پانی کے لیے ترس رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ راجکوٹ اور جام نگر جیسے علاقوں میں لوگ پینے کے پانی کے لیے پریشان ہیں اور کچھ-سوراشٹر میں کسان خشک سالی کے مسئلے کا سامنا کر رہے ہیں۔
کانگریس صدر کا کہنا ہے کہ گجرات کے لوگوں کو 2047 تک ’وکست بھارت‘ کے خواب دکھائے گئے، لیکن حقیقت میں بی جے پی نے ریاست میں اپنے 28 سالہ دور حکومت کے دوران صرف جھوٹا پروپیگنڈا کیا اور لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکی۔ کھڑگے نے گجرات کی بی جے پی حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے دور حکومت میں نہ تو ’سجلم‘ (صاف پانی) ہے اور نہ ہی ’سفلم‘ (پھلوں اور زرخیز فصلوں سے بھرپور)۔ کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) نے گجرات میں ’جل جیون مشن‘ کے نفاذ میں سنگین خامیوں کا انکشاف کیا ہے۔ اس رپورٹ میں منصوبے میں تاخیر، مالی بے ضابطگیوں اور پوری ریاست میں پانی کے معیار کی جانچ میں خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ جمعہ کو گجرات اسمبلی کے مانسون اجلاس کے آخری دن سی اے جی کی رپورٹ پیش کی گئی۔ اس رپورٹ میں پایا گیا ہے کہ جن گاؤں سے پانی کے نمونے لیے گئے، ان میں سے 89 فیصد پانی کے نمونے پینے کے قابل نہیں تھے۔ اسی رپورٹ کو سامنے رکھ کر ملکارجن کھڑگے نے بی جے پی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
