گنگا ندی میں ’افطار پارٹی‘ کے دوران بریانی کھا کر ہڈی پھینکنے والے 8 ملزمین کو ملی ضمانت

بی جے پی یوتھ وِنگ کے سربراہ رجت جیسوال نے 16 مارچ کو وارانسی واقع کوتوالی تھانہ میں شکایت درج کرائی تھی، جس کے بعد پولیس نے مذہبی جذبات مجروح کرنے کے الزام میں 14 لوگوں کو گرفتار کیا تھا۔

<div class="paragraphs"><p>گنگا ندی میں افطار پارٹی کی علامتی تصویر، اے آئی</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

الٰہ آباد ہائی کورٹ نے مارچ 2026 میں وارانسی واقع گنگا ندی میں کشتی پر ’نان ویج پارٹی‘ کرنے اور کچرا ندی میں پھینکنے کے معاملہ میں گرفتار 8 ملزمین کی ضمانت عرضی منظور کر لی ہے۔ جسٹس راجیو لوچن شکلا اور جسٹس جتیندر کمار سنہا کی ڈویژنل بنچ نے دانش سیفی، عامر کیفی اور نورالاسلام سمیت 8 عرضی دہندگان کو یہ راحت دی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا پر فالووَرس بڑھانے کے مقصد سے ملزمین نے اسّی گھاٹ سے نمو گھاٹ کے درمیان چلتی ہوئی کشتی پر افطار پارٹی کی تھی۔ بی جے پی یوتھ وِنگ کے سربراہ رجت جیسوال نے 16 مارچ کو وارانسی واقع کوتوالی تھانہ میں اس کے خلاف شکایت درج کرائی تھی۔ بعد ازاں پولیس نے مذہبی جذبات مجروح کرنے اور ندی آلودہ کرنے کے الزام میں مجموعی طور پر 14 لوگوں کو گرفتار کیا تھا۔


بہرحال، گنگا کی لہروں پر چکن بریانی پارٹی کرنے کا یہ معاملہ اب عدالت کی دہلیز پر ہے۔ ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے سبھی 14 ملزمین کی ضمانت عرضیوں پر ایک ساتھ سماعت شروع کی۔ دانش، عامر اور نورالاسلام کی طرف سے عرضی پہلے داخل کی گئی تھی، جس کے بعد دیگر ملزمین کی عرضیوں کو بھی اسی کے ساتھ منسلک کر دیا گیا۔ عدالت نے ان 8 ملزمین کو ضمانت تو دے دی، لیکن بقیہ 6 دیگر ملزمین کی قسمت کا فیصلہ 18 مئی کو ہونے والی اگلی سماعت میں ہوگا۔

یہ پورا تنازعہ مارچ 2026 میں اس وقت شروع ہوا جب انسٹاگرام پر ویڈیو بنانے اور فالووَرس بڑھانے کی کوشش میں کچھ نوجوانوں نے کشتی کے مالک کے ساتھ مل کر مبینہ طور پر اصولوں کی خلاف ورزی کی۔ الزام ہے کہ گنگا ندی کے ممنوعہ علاقہ میں ٹوپی پہنے کچھ لوگوں نے نہ صرف نان ویج کھایا بلکہ بچی ہوئی ہڈیوں کو ندی میں پھینک دیا۔ اس واقعہ کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد کچھ لوگوں نے سخت اعتراض ظاہر کیا۔ شکایت کے بعد پولیس نے سخت کارروائی کرتے ہوئے ملزمین کو گرفتار کر جیل بھیج دیا۔ ساتھ ہی پولیس نے لائف جیکٹ نہ رکھنے والی کشتیوں کے خلاف مہم بھی چلائی۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔