بہار: 76 ہزار اسکول بند، ساڑھے تین لاکھ اساتذہ بے مدت ہڑتال پر

اساتذہ کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے اور انہیں نوکری سے برخواست کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، لیکن اس بار اساتذہ یونین نے بھی فیصلہ کن جنگ لڑنے کا تہیہ کر لیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

شیث احمد

بہار کے تقریباً ساڑھے تین لاکھ کنٹریکٹ ٹیچر آج سے بے مدت ہڑتال پر چلے گئے ہیں۔ اس ہڑتال کی وجہ سے تقریباً 76 ہزار اسکول پوری طرح بند ہیں۔ آج سے ہی میٹرک (دسویں) کا امتحان شروع ہوا ہے ،لیکن ٹیچروں کے بائیکاٹ کی وجہ سے میٹرک امتحان پر بھی اس کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔ اساتذہ کی کمی کی وجہ سے دوسرے شعبوں کے ملازمین کو امتحان ڈیوٹی دی گئی ہے۔ اساتذہ کی اسٹرائیک اگر لمبی چلی تو امتحانات کے نتائج آنے میں تاخیر بھی ہو سکتی ہے ،ساتھ ہی این پی آر کا کام بھی بروقت شروع نہیں ہو سکتا ہے۔

سرکار کی طرف سے اسٹرائیک کو ختم کرانے کے لئے سخت قدم اٹھانے کی بات کی جا رہی ہے۔ اساتذہ کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے اور انہیں نوکری سے برخواست کرنے کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہے ہی ہیں، لیکن اس بار اساتذہ یونین نے بھی فیصلہ کن جنگ لڑنے کا موڈ بنا لیا ہے۔ اگلے سال الیکشن ہے اس لیے امید یہی ہے کہ سرکار کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائے گی جس سے اس کی مزید پریشانی بڑھنے کا امکان ہو۔


واضح رہے کہ بہار کے کنٹریکٹ اساتذہ کے حق میں پٹنہ ہائی کورٹ نے فیصلہ سنایا تھا اور بہار سرکار کو مساوی کام کے بدلے مساوی تنخواہ دینے کا حکم جاری کیا تھا جس کے بعد بہار سرکار نے سپریم کورٹ میں اپیل کی تھی۔ کئی ماہ تک چلی سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے بہار سرکار کی دلیلوں کو درست مانتے ہوئے اساتذہ کے مطالبات کو ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ اب سپریم کورٹ سے شکست کھانے کے بعد بہار کے کنٹریکٹ اساتذہ نے ریاستی حکومت کے خلاف اعلان جنگ کر دیا ہے۔ اساتذہ یونین کا کہنا ہے کہ سرکار بات چیت کی صورت میں ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کرتی ہے اس لیے ہمیں جارحانہ رخ اختیار کرنا پڑتا ہے۔

بہار میں این آر سی، این پی آر اور سی اے اے کے خلاف جگہ جگہ ہونے والے احتجاجی مظاہروں سے حکومت پہلے سے ہی کافی پریشان ہے۔ ایسے میں ریاست کے ساڑھے تین لاکھ اساتذہ کی حکومت کے خلاف محاذ آرائی سے یقیناً اس کی پریشانیاں اور بڑھیں گی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 17 Feb 2020, 2:11 PM