مدھیہ پردیش کے اجین میں سوائن فلو سے 62 سالہ خاتون کی موت، اسپتال کو نوٹس جاری
اندور کے چیف میڈیکل اینڈ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر حسنی نے بتایا کہ 18 اگست کو مریضہ کے اہل خانہ اسے ڈاکٹروں سے ڈسچارج کرا کر گھر لے گئے تھے۔ بعد ازاں 19 اگست کو گھر پر اس خاتون کی موت ہو گئی۔
مدھیہ پردیش کے اجین میں 62 سالہ خاتون کی سوائن فلو (ایچ1این1) کے علاج کے دوران موت ہو گئی ہے۔ سردی، کھانسی کے ساتھ ساتھ سانس لینے میں تکلیف ہونے پر خاتون کو اندور واقع پرائیویٹ اسپتال کے آئسولیشن وارڈ میں تقریباً 16 دنوں تک رکھا گیا تھا۔ اسپتال سے واپس آنے کے بعد 19 اگست کو گھر پر ہی ان کا انتقال ہو گیا۔
اندور کے چیف میڈیکل اینڈ ہیلتھ آفیسر (سی ایم ایچ او) ڈاکٹر حسنی نے بتایا کہ خبر ملی تھی کہ اجین کی خاتون 3 اگست کو اندور کے پرائیویٹ اسپتال میں داخل ہوئی تھیں اور 18 اگست کو ان کے اہل خانہ ڈاکٹروں سے ڈسچارج کرا کر گھر لے گئے تھے۔ بدھ (19 اگست) کو ان کے گھر پر ان کی موت ہو گئی۔ سی ایم ایچ او نے مزید بتایا کہ اسپتال انتظامیہ کی جانب سے دفتر کو کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔ اگر اطلاع دی جاتی تو ہمارے ٹیسٹنگ کے جو بھی پروٹوکول ہوتے، اس کے مطابق ہم ان کے دوبارہ ٹیسٹ کروا کر انہیں بلاتے اور ہماری جو بھی ایجنسیاں ہیں، وہ اس معاملے کی جانچ کرتیں۔ اس معاملے میں اسپتال انتظامیہ ناکام رہی ہے۔ فی الحال آئی ڈی ایس پی برانچ کی جانب سے اسپتال کو نوٹس جاری کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر حسنی کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں نرسنگ ایکٹ کی بھی خلاف ورزی پائی گئی ہے۔ اس کے لیے 3 رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جو پورے معاملے اور دستاویزات کا جائزہ لے گی۔ اس میں کیا کیا حالات تھے اور کیا علاج دیا گیا، جو اسپتال کی جانب سے ہمیں نہیں بتایا گیا ہے۔ خاتون کی بیماری کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس کا انکشاف تو جانچ میں ہی ہو سکے گا۔ لیکن موصولہ معلومات کے مطابق ان کی ایچ1این1 رپورٹ پازیٹو بتائی جا رہی ہے۔ انھوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ اس میں تمام پروٹوکول اور اسپتال انتظامیہ کی جانب سے محکمے کو جو اطلاع دی جانی تھی، اس میں انہوں نے لاپروائی برتی ہے۔ اسی وجہ سے اسپتال انتظامیہ کو نوٹس جاری کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر حسنی نے بتایا کہ ’’فلو کی جو بیماری ہے، اس میں عام سردی، زکام ہوتا ہے۔ لیکن یہ پھیلنے والی بیماری ہے جو ایک سے دوسرے میں پھیل سکتی ہے۔ لیکن مریضہ کو کس طرح ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا گیا اور ان کے رابطے میں کتنے لوگ آئے، یہ اجین انتظامیہ سے بات کر کے معلوم کریں گے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’وہاں پروٹوکول کے مطابق جو بھی سرگرمیاں کرائی گئی ہیں، وہ بھی ہم معلوم کریں گے۔ ساتھ ہی اسپتال کے عملے کی حفاظت بھی ہماری ترجیح ہے۔ اسی کے لیے ٹیم تشکیل دی گئی ہے، جو ہمیں رپورٹ پیش کرے گی اور اسی کی بنیاد پر مزید کارروائی کی جائے گی۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
