آدھار خدمات کا فائدہ لینے سے روکتا ہے آدھار! 61 فیصد شہریوں کا خیال
آدھار کو لانچ ہوئے ایک عشرہ ہو چکا ہے اور اس دوران ملک کی عوام کے لئے اس کی اہمیت بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کی وجہ سے لوگوں کی نجی ڈاٹا کو محفوظ ہونے یا نہ ہونے کا مسئلہ بھی کئی مرتبہ اٹھا ہے

نئی دہلی: آدھار کو لانچ ہوئے ایک عشرہ ہو چکا ہے اور اس دوران ملک کی عوام کے لئے اس کی اہمیت بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کی وجہ سے لوگوں کی نجی ڈاٹا کو محفوظ ہونے یا نہ ہونے کا مسئلہ بھی کئی مرتبہ اٹھا ہے۔ ایک سروے کے بعد یہ انکشاف ہوا ہے کہ 61 فیصد آدھار رکھنے والے لوگوں کو محسوس ہوتا ہے کہ آدھار انہیں مختلف خدمات کا فائدہ اٹھانے سے روکتا ہے۔ تاہم، سروے کے مطابق 90 فیصد آدھار رکھنے والوں کو اپنا ڈاٹا محفوظ ہونے کا یقین ہے۔
جہاں سروے میں یہ پایا گیا ہے کہ تقریبا 61 فیصد آدھار رکھنے والے ہندوستانیوں کو محسوس ہوتا ہے کہ آدھار دیگر کو ان کی خدمات کا فائدہ لینے سے روکتا ہے، وہیں آٹھ فیصد ہندوستانیوں کو آدھار کے غلط استعمال کی فکر ہے اور تقریبا دو فیصد لوگوں کو آدھار سے متعلق دھوکہ دہی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
صلاح کار گروپ ڈل برگ اور انویسٹمنٹ فرم اومڈیار نیٹ ورک انڈیا کے سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے۔ سروسے کی بنیاد پر پیر کو جاری ’اسٹیٹ آف آدھار 2019‘ نام کی یہ رپورٹ ملک کے 28 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام ایک ریاست میں تقریبا 167000 لوگوں کے سروے پر مبنی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 95 فیصد بالغ ہندوستانی اور 75 فیصد بچوں کے پاس آدھار ہے لیکن ابھی بھی دو کروڑ 80 لاکھ (28 ملین) ہندوستانیوں کے پاس آدھار نہیں ہے۔
آسام میں 90 فیصداور میگھالیہ میں 61 فیصد لوگوں کے پاس آدھار نہیں ہے۔ 30 فیصد بے گھر لوگوں اور 23 فیصد مخنثوں کے پاس آدھار کارڈ نہیں ہے۔ پی ڈی ایس راشن، منریگا، سوشل پنشن جیسی فلاح وبہبود کے منصوبوں کا فائدہ اٹھانے والے80 فیصد ہندوستانیوں کو لگتا ہے کہ آدھار کی وجہ سے ان خدمات تک پہنچنا آسان ہوگیا ہے لیکن اس میں کچھ مشکلات بھی ہیں کیونکہ 8ء0 فیصد لوگوں کو آدھار سے متعلق مسائل کی وجہ سے فلاح وبہبود کے منصوبوں سے محروم ہونا پڑا ہے۔مجموعی طورسے 49 فیصد ہندوستانی فلاح وبہبود کے خدمات کے لئے آدھار کا استعمال کرتے ہیں۔
سروے میں پایا گیا ہے کہ 90 فیصد لوگوں کو لگتا ہے کہ بینک اکاؤنٹ، سم کارڈ اور اسکول میں داخلے کے لئے آدھار ضروری ہے۔ زیادہ تر لوگوں کا کہنا ہے کہ ان خدمات کے لئے ان سے ضرور آدھار کا مطالبہ کیا گیا ہے جبکہ 2018 کے سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق بینک اکاؤنٹ اور سم کارڈ جیسی سروس کےلئےآدھار ضروری نہیں ہے۔ سروے کے مطابق 6 سے 14 برس کے 5ء0 فیصد بچوں کا آدھار سے متعلق پریشانیوں کی وجہ سے اسکول میں داخلہ نہیں ہوپایا۔
ان سب مسائل کے باوجود 72 فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ آدھار سے سہولت ہے لیکن ان میں سے تقریبا آدھے لوگ اس بات سے فکر مند بھی دکھے کہ آدھار کو کئی خدمات سے جوڑ دیا گیا ہے۔ مجموعی طور سے 92 فیصد لوگوں آدھارسسٹم سے مطمئن ہیں۔
تقریبا 33 فیصد لوگوں کو آدھار کو اپ ڈیٹ کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ آدھار بنوانے یا اپ ڈیٹ کرنے کے لئے علی الصبح لائن میں لگنا اور وقت کا برباد ہونا بھی لوگوں کو برا لگتا ہے۔ موجودہ وقت میں آدھار سے متعلق نئے نئے ڈیجیٹل فیچر بھی آگئے ہیں لیکن سروے کے مطابق 77 فیصد آدھار رکھنے والوں نے ایم آدھار ایپ، کیو آر کوڈ اسکینگ، ورچول آدھار نمبر یا ماسکڈ آدھار جیسی فیچر کا استعمال نہیں کیا ہے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
