’7 میں سے 6 نئے ایئرپورٹس تو بند پڑے ہیں‘، جیور ایئرپورٹ کے افتتاح کے بعد اکھلیش یادو کا تبصرہ

اکھلیش یادو نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی حکومت صرف تعمیری کاموں پر اربوں روپے خرچ کر رہی ہے تاکہ چنندہ ٹھیکیداروں کو منافع پہنچایا جا سکے، جبکہ زمینی سطح پرایئرپورٹس بند پڑے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>اکھلیش یادو / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نوئیڈا انٹرنیشنل ایئرپورٹ (جیور) کا افتتاح ہو چکا ہے، اور اب اتر پردیش کی سیاست میں گرمی پیدا ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر یکے بعد دیگرے کئی پوسٹ کیے ہیں، جس میں بی جے پی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ حکومت صرف تعمیری کاموں پر اربوں روپے خرچ کر رہی ہے تاکہ چنندہ ٹھیکیداروں کو منافع پہنچایا جا سکے، جبکہ زمینی سطح پر کئی ایئرپورٹس بند پڑے ہیں۔

اکھلیش یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا ہے کہ ’’بی جے پی کا بدعنوان مینجمنٹ دیکھیے، 7 نئے ایئرپورٹس میں سے 6 بند پڑے ہیں۔‘‘ انھوں نے باقی بچے ایئرپورٹس کی حالت پر بھی سوال اٹھائے اور گزشتہ سال کی ایک نیوز ویڈیو بھی شیئر کی، جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ کئی نئے ائیرپورٹس پر طے فلائٹ آپریشنز بند کر دیے گئے ہیں۔ ویڈیو میں جن ایئرپورٹس کا ذکر ہے، ان میں چترکوٹ، اعظم گڑھ، شراوستی، مراد آباد، علی گڑھ اور کشی نگر کے ایئرپورٹس شامل ہیں۔ کشی نگر ایئرپورٹ کو ایک انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے طور پر کھولا گیا تھا، لیکن وہاں سے بیرون ملک کے لیے کوئی ریگولر فلائٹ سروس شروع نہیں ہوئی ہے۔


اکھلیش یادو نے الزام عائد کیا ہے کہ بی جے پی حکومت کا حقیقی معنوں میں کوئی بھی ایئرپورٹ چلانے کا یا اڑان منصوبہ کے تحت ہوائی جہاز اڑانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، وہ تو صرف پیسہ کمانے کے لیے اس دھندے میں ہیں۔ ایک دیگر پوسٹ میں اکھلیش یادو نے پی ایم مودی کے ان تبصروں کا جواب دیا جو انھوں نے جیور ایئرپورٹ کا افتتاح کرتے وقت کیا تھا۔ پی ایم مودی نے اپنی تقریر کے دوران سماجوادی پارٹی پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے اپنے دور میں نوئیڈا کو ’لوٹ کا اے ٹی ایم‘ بنا دیا تھا۔ اس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اکھلیش لکھتے ہیں کہ ’’ہماری ریاست میں مہمان بن کر آئے ہیں، ہم ان کو مہمان مان کر ہی احترام کے ساتھ وداع کریں گے۔ جانے والوں کی بات کا برا نہیں مانا جاتا ہے۔‘‘ انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’جب شکست سامنے نظر آنے لگتی ہے تو انسان کو نہ اپنے عہدہ کا احترام رہتا ہے، نہ ہی اپنے بیان پر قابو۔ عمر اور عہدہ کا احترام کرنا ہماری تہذیب میں شامل ہے، اور ہمیشہ رہے گا۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔