مہاراشٹر: لاتور میں بغیر ہیلمٹ بائک چلانے والے 58 پولیس اہلکاروں کو ملی سزا، قانون کے رکھوالوں پر کسا قانون کا شکنجہ!
ایس پی تانبے کا موقف ہے کہ جو قانون نافذ کرانے کے ذمہ دار ہیں، انہیں سب سے پہلے خود اس پر عمل کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ’’جب ہم قوانین نافذ کرانے کے ذمہ دار ہیں، تو شروعات بھی ہم سے ہی ہونی چاہیے۔‘‘

مہاراشٹر کے لاتور ضلع میں قانون پر عمل کرانے والے خود ہی کٹہرے میں کھڑے نظر آ رہے ہیں۔ عام لوگوں کو ٹریفک قوانین کا سبق پڑھانے سے پہلے لاتور پولیس نے اپنے ہی محکمے پر شکنجہ کسنا شروع کر دیا ہے۔ ضلع میں بغیر ہیلمٹ دو پہیہ گاڑی چلانے والے 58 پولیس اہلکاروں اور افسران کے خلاف جرمانے کی کارروائی کی گئی ہے۔ پولیس انتظامیہ کے اس سخت رویے نے محکمے میں ہلچل مچا دی ہے۔
لاتور میں یکم ستمبر سے پورے ضلع میں ہیلمٹ پہننا لازمی کیا جا رہا ہے۔ اس فیصلے کو زمینی سطح پر نافذ کرنے سے پہلے پولیس سپرنٹنڈنٹ امول تانبے نے واضح کر دیا کہ اس قانون میں پولیس اہلکاروں کو کوئی چھوٹ نہیں ملے گی۔ ایس پی تانبے کا واضح موقف ہے کہ جو لوگ قانون نافذ کرانے کے ذمہ دار ہیں، انہیں سب سے پہلے خود اس پر عمل کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ’’جب ہم قوانین نافذ کرانے کے ذمہ دار ہیں، تو شروعات بھی ہم سے ہی ہونی چاہیے۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ ایس پی تانبے کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ہی ٹریفک برانچ کو ہدایت دی گئی تھی کہ کارروائی کا آغاز پولیس نظام کے اندر سے کیا جائے۔ اب اگر کوئی بھی پولیس اہلکار بغیر ہیلمٹ بائک سے تھانے آتا ہے، تو اس پر فوری جرمانہ عائد کیا جا رہا ہے۔ یہی نہیں، اس کارروائی کو مزید سخت بناتے ہوئے چالان کی تفصیلات پولیس اہلکار کی ’سروس بک‘ میں درج کرنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔ یعنی یہ لاپروائی اب ان کے سرکاری سروس ریکارڈ کا حصہ بنے گی۔
اس معاملے میں لاتور ضلع کے تمام 23 پولیس اسٹیشنوں کے انچارجوں کو سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ بغیر ہیلمٹ پائے جانے پر محکمہ جاتی جرمانے کے ساتھ ساتھ تادیبی کارروائی بھی کی جائے گی۔ اس کارروائی سے انتظامیہ کا مقصد صرف چالان کاٹنا نہیں، بلکہ معاشرے کے سامنے ایک مثال پیش کرنا ہے۔ ضلع میں سڑک حادثات اور اموات پر قابو پانے کے لیے یکم ستمبر سے یہ قانون پوری سختی کے ساتھ نافذ ہوگا۔
