علاقائی پارٹیوں کی آمدنی میں 52 فیصد گراوٹ، 21 جماعتوں نے کمائی سے زیادہ کیا خرچ، اے ڈی آر کی رپورٹ میں ہوا انکشاف

سیاسی پارٹیوں کی 25-2024 کی آڈٹ رپورٹ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پرموجود تھیں، باقی 31 پارٹیوں نے 31 اکتوبر 2025 کی مقررہ میعاد کے 207 دن بعد بھی اپنی آڈٹ رپورٹ جمع نہیں کی تھی۔

<div class="paragraphs"><p>اے ڈی آر، تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

انتخابی اصلاحات کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’اے ڈی آر‘ یعنی ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز نے ملک کی علاقائی سیاسی پارٹیوں کی مالی حالت کے حوالے سے چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مالی سال 25-2024 میں 36 علاقائی پارٹیوں کی مجموعی آمدنی میں 51.57 فیصد کی بھاری کمی آئی ہے جب کہ ان میں سے 21 پارٹیوں نے اپنی اعلان کردہ آمدنی سے زیادہ پیسہ خرچ کیا ہے۔

اے ڈی آر نے حال ہی میں جاری کردہ اپنی رپورٹ میں 67 منظور شدہ علاقائی پارٹیوں میں سے 36 پارٹیوں کے آڈٹ شدہ کھاتوں کی جانچ کی ہے۔ ان پارٹیوں  کی 25-2024 کی آڈٹ رپورٹ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر موجود تھیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ باقی 31 پارٹیوں نے 31 اکتوبر 2025 کی مقررہ میعاد کے 207 دن بعد بھی اپنی آڈٹ رپورٹ جمع نہیں کی تھی۔


تحقیقات کے مطابق 25-2024 میں 36 علاقائی پارٹیوں کی کل آمدنی 1,192.94 کروڑ روپئے رہی جو گزشتہ سال 24-2023 میں 2,463.17 کروڑ روپئے تھی۔ یعنی کمائی میں 1,270.23 کروڑ روپئے اور 51.57 فیصد کی کمی درج کی گئی۔وہیں ان پارٹیوں کا مجموعی خرچ 1,433.07 کروڑ روپئے رہا۔ یہ ان کی مجموعی آمدنی سے 240.12 کروڑ روپئے زیادہ تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ اخراجات آمدنی سے تقریباً 20 فیصد زیادہ ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تجزیے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ 5 پارٹیوں کا کل آمدنی میں تقریباً 69 فیصد اور کل اخراجات میں 77 فیصد سے زیادہ حصہ تھا۔

علاقائی پارٹیوں میں تیلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) کی آمدنی سب سے زیادہ تھی۔ پارٹی نے 228.31 کروڑ روپے آمدنی کا اعلان کیا، جو کل آمدنی کا 19.14 فیصد ہے۔ اس کے بعد آل انڈیا ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی آمدنی 219.35 کروڑ روپے اور وائی ایس آر کانگریس کی آمدنی 140.39 کروڑ روپے تھی۔ وائی ​​ایس آر کانگریس اخراجات کے معاملے میں سرفہرست ہے۔ پارٹی نے 340.20 کروڑ روپے خرچ کئے۔ اس کے بعد بیجو جنتا دل (بی جے ڈی) نے 288.44 کروڑ روپے اور ٹی ایم سی نے 227.59 کروڑ روپے خرچ کیے۔


15 پارٹیاں ایسی رہیں جنہوں نے اپنی آمدنی کا کوئی حصہ خرچ نہیں کیا۔ ٹی ڈی پی نے سب سے زیادہ 166.98 کروڑ روپے بچائے۔ اس کے بعد مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) سے36.27 کروڑ روپئے اور اے آئی اے ڈی ایم کے نے 35.86 کروڑ روپئے بغیر خرچ رکھے۔ علاقائی پارٹیوں کی سب سے بڑی کمائی کا ذریعہ چندہ اور رضاکارانہ عطیات رہے۔ کل آمدنی میں 702.36 کروڑ روپئے یعنی 58.88 فیصد حصہ چندہ اور عطیات سے آیا۔ ٹی ایم سی کو سب سے زیادہ 184.08 کروڑ روپئے کا چندہ ملا۔ اس کے بعد وائی ایس آر کانگریس کو 140.05 کروڑ روپئے اور ٹی ڈی پی کو 85.20 کروڑ روپئے کا عطیہ موصول ہوا۔ اس کے علاوہ سود سے ہونے والی آمدنی 277.21 کروڑ روپے رہی، جو کل آمدنی کے 23.24 فیصد ہے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔