مسلمانوں کے حقوق کے لیے 51 رکنی قومی نگرانی کمیٹی قائم، آئینی و قانونی راستوں سے جدوجہد کا اعلان

مسلمان رہنماؤں اور دانشوروں نے حقوق، نمائندگی اور شہری آزادیوں کے مسائل پر کام کے لیے 51 رکنی قومی نگرانی کمیٹی قائم کی ہے۔ کمیٹی آئینی، قانونی اور جمہوری طور پر مداخلت کرے گی

<div class="paragraphs"><p>سلمان خورشید اور سعادت اللہ حسینی / آئی اے این ایس</p></div>
i

نئی دہلی: مسلم رہنماؤں اور دانشوروں کے قومی اجلاس میں کیے گئے فیصلہ کے تناظر میں منگل کو 51 رکنی قومی نگرانی کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ کمیٹی میں سماجی، مذہبی، قانونی، سیاسی اور سول سوسائٹی سے وابستہ اہم شخصیات شامل ہیں۔ اس کا مقصد ہندوستانی مسلمانوں کے حقوق اور مفادات سے متعلق مسائل پر آئینی، قانونی اور سیاسی راستوں کے ذریعے منظم انداز میں کام کرنا ہے۔

نئی دہلی میں کمیٹی کے اعلان کے لیے منعقدہ پریس کانفرنس میں اس کے متعدد ارکان نے خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ آئین میں حاصل حقوق، شہری آزادیوں، سیاسی نمائندگی اور دیگر اہم معاملات پر اجتماعی کارروائی کی ضرورت ہے۔ کمیٹی جمہوری اور آئینی طریقوں سے متعلقہ مسائل کو اٹھانے، سرکاری اداروں سے بات چیت کرنے اور ضرورت پڑنے پر قانونی و سیاسی مداخلت کرنے کا کام کرے گی۔

کمیٹی کی میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا کہ ملک کے ان علاقوں کا دورہ کیا جائے گا جہاں مسلمانوں یا دیگر طبقات کو سنگین مسائل اور چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان دوروں کا مقصد مقامی لوگوں اور تنظیموں سے براہ راست بات چیت کر کے زمینی صورتحال کو سمجھنا اور متاثرہ طبقات میں اعتماد پیدا کرنا ہے۔

اس سلسلے میں پہلا دورہ اتراکھنڈ کا کیا گیا۔ کمیٹی کے ایک وفد نے دہرادون کا دورہ کیا، جہاں ریاست کی سول سوسائٹی کے نمائندوں اور مسلم قیادت کے ساتھ مختلف ملاقاتیں ہوئیں۔ پہلی میٹنگ میں سول سوسائٹی کے اہم ارکان کے ساتھ ریاست کی موجودہ صورتحال اور سماجی مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سینئر کانگریس لیڈر گردیپ سپل بھی اس اجلاس میں موجود تھے۔ دوسری میٹنگ مسلم برادری کے سیاسی، سماجی اور مذہبی نمائندوں کے ساتھ ہوئی۔


سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید نے کہا کہ یہ اقدام ہندوستانی مسلمانوں کی جانب سے ہے، لیکن ملک کے ہر شہری کے حقوق برابر ہیں۔ انہوں نے تمام لوگوں کو اس کوشش میں شامل ہونے اور مل کر کام کرنے کی دعوت دی۔ مولانا عطاء الرحمٰن قاسمی نے کہا کہ موجودہ حالات میں یہ مہم صرف شہروں تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ ملک کے دیہی علاقوں تک بھی پہنچنی چاہیے، تاکہ خود کو کمزور اور حاشیے پر محسوس کرنے والے لوگوں کو سہارا دیا جا سکے۔

محمد ادیب نے واضح کیا کہ یہ کوشش پرسنل لا بورڈ یا کسی جماعت کے خلاف نہیں ہے۔ ان کے مطابق شرعی معاملات میں وہ پرسنل لا بورڈ کی رہنمائی کے تحت ہیں، جبکہ کمیٹی کا دائرہ بنیادی طور پر سیاسی اور شہری حقوق سے متعلق ہے۔

ندیم خان نے کہا کہ ملک کے مختلف حصوں میں انہدام، بے دخلی، نقل مکانی اور مذہبی مقامات پر حملوں کے واقعات تشویش کا باعث ہیں۔ انہوں نے آسام میں ہزاروں خاندانوں کی بے دخلی اور مبینہ ’پش بیک‘ کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بعض معاملات میں ہندوستانی شہریوں کو بھی غلط طریقے سے حراست میں لینے یا ملک سے باہر دھکیلنے کے خدشات ہیں۔ انہوں نے گجرات کے کچھ علاقوں اور راجستھان میں درگاہوں اور مساجد سے متعلق واقعات کا بھی ذکر کیا۔

سید سعادت اللہ حسینی نے کمیٹی کو ایک اہم پہل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں ملک کے مختلف حصوں کی نمائندگی ہے اور رہنماؤں کے ساتھ نوجوانوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق کمیٹی حالات پر مسلسل نظر رکھے گی اور ضرورت پڑنے پر مداخلت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس کا کام صرف مسلمانوں تک محدود نہیں ہوگا بلکہ پورے ملک کے مفاد سے متعلق ہوگا۔


جسٹس اقبال احمد انصاری نے آسام کی صورتحال پر کہا کہ وہاں بے دخلی کی کارروائیوں سے بنگالی مسلمان زیادہ متاثر ہو رہے ہیں اور آسامی و بنگالی مسلمانوں کے درمیان بھی فاصلہ موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی دونوں فریقوں کے ساتھ غیر جانب داری سے کھڑی ہے۔

مولانا محسن علی تقوی، فُضیل احمد ایوبی اور دیگر مقررین نے بھی موجودہ حالات میں مذہبی رہنماؤں، سیاسی نمائندوں، سول سوسائٹی اور وکلا کے درمیان تعاون کو ضروری قرار دیا۔

ایس کیو آر الیاس نے ایس آئی آر، این آر سی، یکساں سول کوڈ، مبینہ لنچنگ اور مدارس و مذہبی اداروں سے متعلق مسائل پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ تمام طبقات کو مل کر جمہوری انداز میں ان چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہوگا۔

پروگرام کی نظامت آئی ایم سی آر کے سکریٹری اعظم بیگ نے کی۔ قومی نگرانی کمیٹی کا قیام 24 جولائی کو منعقدہ قومی اجلاس میں لیے گئے اجتماعی فیصلے کے بعد عمل میں آیا ہے۔ 51 رکنی کمیٹی کے علاوہ 10 رکنی سکریٹریٹ بھی قائم کیا گیا ہے، جو مختلف معاملات کی نگرانی اور باہمی رابطہ کاری میں معاونت کرے گا۔