’مظاہرین طلبا کے ساتھ 5 طریقوں سے بربریت ہوئی، امت شاہ اس کے ذمہ دار‘، پریس کانفرنس میں راہل گاندھی کا سخت حملہ

راہل گاندھی نے کہا کہ ’’میں نے کئی بار اسپیکر سے گزارش کی اور بی جے پی کے سینئر لیڈران سے بھی کہا، لیکن پھر بھی مجھے بولنے نہیں دیا گیا۔ انھیں اعتراض تھا کہ میں نے امت شاہ کا نام لیا تھا۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>ویڈیو گریب</p></div>
i

لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے آج پریس کانفرنس کر ایک بار پھر لوک سبھا میں انھیں بولنے کی اجازت نہ دیے جانے کا سنگین الزام عائد کیا۔ انھوں نے کہا کہ دہلی میں مظاہرین طلبا پر 5 طریقوں سے بربریت ہوئی، اس کے لیے امت شاہ ذمہ دار ہیں۔ جب اس بارے میں لوک سبھا میں بات رکھنے کی کوشش ہوئی تو موقع ہی نہیں دیا گیا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ’’میں نے اسپیکر سے کئی بار گزارش کی اور بی جے پی کے سینئر لیڈران سے بھی کہا، لیکن پھر بھی مجھے بولنے نہیں دیا گیا۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’میں نے امت شاہ کا نام لیا تھا۔ طلبا پر بربریت کے لیے امت شاہ ذمہ دار ہیں۔ اس پر مجھ سے معافی کے لیے کہا گیا۔ میں بی جے پی اور آر ایس ایس سے کبھی معافی نہیں مانگوں گا۔‘‘

پریس کانفرنس میں میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ’’جیسا کہ آپ نے آج دیکھا، لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد کو بولنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ حکومت کے دیگر اراکین کو بولنے کی اجازت دی گئی، لیکن مجھے بولنے نہیں دیا گیا۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ میں نے امت شاہ کے بارے میں کچھ کہا تھا۔ میں نے صرف یہ کہا تھا کہ طلبا کے خلاف کی گئی بربریت کے ذمہ دار امت شاہ ہیں۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’مجھے یہ یقین دہانی بھی کرائی گئی کہ اگر میں معذرت کر لوں تو مجھے اپنی بات جاری رکھنے کی اجازت دے دی جائے گی۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ میں کبھی بھی، کسی بھی صورت میں بی جے پی، آر ایس ایس یا ان سے وابستہ کسی بھی شخص سے معافی نہیں مانگوں گا۔ دوسری بات یہ کہ حزب اختلاف کے قائد کی حیثیت سے ملک کے اہم مسائل اٹھانا میرا حق ہے۔‘‘


کانگریس رکن پارلیمنٹ نے واضح لفظوں میں کہا کہ ان کے نزدیک آج سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ دہلی کی سڑکوں پر طلبا کے ساتھ بربریت کی گئی۔ انھوں نے بربریت کے 5 طریقوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’ان پر پیلیٹ گنوں سے فائرنگ کی گئی۔ ان پر صرف عام لاٹھیاں نہیں برسائی گئیں بلکہ کیل لگی لاٹھیوں اور برقی شاک دینے والے ڈنڈوں کا بھی استعمال کیا گیا۔ خواتین و بچوں کی پٹائی کی گئی اور سادہ وردی والوں نے بھی طلبا کی پٹائی کی۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’مظاہرین کے خلاف چہرہ شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی (فیشیل ریکگنیشن) استعمال کی جا رہی ہے۔ انہیں دوبارہ آواز اٹھانے سے روکنے کے لیے بجرنگ دل کو متحرک کیا جا رہا ہے تاکہ انہیں خوف زدہ کیا جا سکے۔‘‘

امت شاہ کو ہدف تنقید بناتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ وہ مظاہرین طلبا پر بربریت کے ذمہ دار ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’صرف دو ہی امکانات ہیں۔ وزیر داخلہ امت شاہ نے پیلیٹ گنوں کے استعمال، لاٹھی چارج اور برقی شاک دینے والے ڈنڈوں کے استعمال کا حکم دیا تھا۔ یا پھر امت شاہ کو معلوم ہی نہیں تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔ اگر ایسا ہے تو یہ ان کی نااہلی ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’دونوں ہی صورتوں میں انہیں اپنے عہدے سے جانا چاہیے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔