نیٹ پیپر لیک معاملہ میں اب تک 5 گرفتار، راجستھان پولیس کے مطابق 1000 ہزار طلبہ تک پہنچا تھا ’لیک پیپر‘

مہاراشٹر کے پونے سے بیوٹیشین منیشا واگھمارے اور اہلیانگر سے دھننجے لوکھنڈے کو بھی حرست میں لیا گیا ہے۔ ان سے پوچھ تاچھ کی جا رہی ہے۔ الزام ہے کہ منیشا کے 21 کھاتوں میں 10 لاکھ روپے جمع کیے گئے تھے۔

<div class="paragraphs"><p>نیٹ امتحان / علامتی تصویر / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

نیٹ پیپر لیک معاملے میں سی بی آئی نے اب تک 5 لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ اس سے قبل بدھ کو 14 مشتبہ افراد سے 24 گھنٹے تک طویل پوچھ تاچھ کی گئی تھی۔ ملزمان کو عدالت نے ٹرانزٹ ریمانڈ پر بھیج دیا تھا۔ اب سی بی آئی تمام ملزمان کو دہلی لے جائے گی۔ سی بی آئی نے راجستھان کے سیکر سے ملزمان منگی لان بنوال، جموا رام گڑھ کے بھائی دنیش بنوال، بیٹا وکاس بنوال، ہریانہ کے گروگرام کے رہنے والے یش یادو اور ناسک کے شبھم کھیرنار کو گرفتار کیا ہے۔ شبھم نے ہی یش کو پیپر دیا تھا۔

تحقیقاتی ایجنسی نے وکرم یادو، یوگیش پرجاپات، سندیپ ہریتوال، نیتیش اجمیرا، ستیہ نارائن، وکرم، راکیش، رجت، امیت مینا اور روہت ماولیا کو پوچھ تاچھ کے بعد چھوڑ دیا ہے۔ مہاراشٹر کے پونے سے بیوٹیشین منیشا واگھمارے اور اہلیانگر سے دھننجے نروتی لوکھنڈے کو بھی حرست میں لیا گیا ہے۔ ان سے پوچھ تاچھ کی جا رہی ہے۔ الزام ہے کہ منیشا کے 21 کھاتوں میں 10 لاکھ روپے جمع کیے گئے تھے۔


راجستھان پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی) کے مطابق راجستھان میں تقریباً 1000 امیدواروں تک لیک پیپر پہنچا تھا۔ تحقیقات کے دوران سی بی آئی کو پتہ چلا ہے کہ لیک پیپر مبینہ طور پر ملزم یش یادو کے ذریعہ راجستھان پہنچا ہے۔ رپورٹس کے مطابق طلبہ سے پیپر تک رسائی دلانے کے بدلے 2 لاکھ سے 5 لاکھ روپے تک وصولے گئے تھے۔ یش یادو کی پہچان ایک دیگر ملزم وکاس بنوال سے ہوئی تھی۔

تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ وکاس کے والد دنیش نے مبینہ طور پر ’نیٹ یو جی‘ کے سوالنامے کی ہارڈ کاپی کو اسکین کر اسے پی ڈی ایف فائل میں تبدیل کیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق ملزمان نے مبینہ طور پر سوالنامے کو پہلے ہاتھ سے لکھا اور پھر اسکین کر راجستھان کے سیکر ضلع میں کوچنگ سنٹروں میں پڑھنے والے طلبہ کے درمیان پھیلا دیا۔ سیکر میں 3 مئی کی رات کو تھانے پہنچے کوچنگ سنٹر کے ٹیچر اور پی جی کے مالک کے پاس وائرل گیس پیپر (کویسچن بینک) تھا۔ اس میں اصل پیپر کے 180 سوال میں سے 150 سوال ہو بہو تھے۔


قابل ذکر ہے کہ پولیس نے دھاندلی کے الزام میں مہاراشٹر کے ناسک سے ڈاکٹر شبھم کھیرنار کو گرفتار کیا ہے۔ اب ستیہ سائی یونیورسٹی سے بھی کنکشن جوڑا جا رہا ہے۔ ملزم شبھم سیہور واقع شری ستیہ سائی یونیورسٹی (ایس ایس ایس یو ٹی ایم ایس) میں آیورویدک میڈیسن (بی اے ایم ایس) کا طالب علم ہے۔ بہار میں نیٹ امتحان میں سالور گینگ سرگرم تھا۔ 60 لاکھ روپے میں ایک سیٹ کی ڈیل ہوئی تھی۔ امتحان سے عین قبل پولیس نے اس پورے معاملہ کا انکشاف کیا تھا۔ اس کا ماسٹر مائنڈ ایک ایم بی بی ایس طالب علم تھا۔ نالندہ پولیس نے 7 لوگوں کو گرفتار کیا تھا۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔