’سی بی ایس ای شعبۂ امتحان‘ میں 44 فیصد عہدے خالی، پارلیمانی کمیٹی نے ممکنہ بے ضابطگیوں کا خطرہ کیا ظاہر
اسٹیمیٹس کمیٹی کے مطابق امتحانی شعبہ حساس اور خفیہ کاموں کے لیے ہوتا ہے، جو کہ کنٹریکٹ ملازمین پر منحصر ہے۔ ایسے میں امتحانات کی شفافیت اور سیکورٹی متاثر ہونے کا خطرہ برقرار رہتا ہے۔

نیٹ سمیت کئی امتحانات میں بے ضابطگیوں کا معاملہ سامنے آ چکا ہے۔ اب ’سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن‘ (سی بی ایس ای) کے امتحانی نظام پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ پارلیمنٹ کی اسٹیمیٹس کمیٹی (تخمینہ کمیٹی) نے بدھ کے روز پیش کی گئی اپنی رپورٹ میں سی بی ایس ای کے امتحانی شعبے میں تقریباً 44 فیصد عہدے خالی ہونے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ کمیٹی کے مطابق شعبۂ امتحان حساس اور خفیہ کاموں کے لیے ہوتا ہے، جو کہ کنٹریکٹ ملازمین پر منحصر ہے۔ ایسے میں امتحانات کی شفافیت اور سیکورٹی متاثر ہونے کا خطرہ برقرار رہتا ہے۔
کمیٹی نے کہا ہے کہ امتحانات کے انعقاد جیسے حساس کام کے لیے کافی تعداد میں مستقل ملازمین کا ہونا ضروری ہے۔ سی بی ایس ای میں بڑی تعداد میں عہدے خالی ہونے کی وجہ سے موجودہ ملازمین پر اضافی ذمہ داری پڑ رہی ہے۔ دوسری جانب کنٹریکٹ پر کام کرنے والے ملازمین پر انحصار بڑھ رہا ہے۔ کمیٹی نے خبردار کیا ہے کہ امتحانات سے متعلق خفیہ کاموں میں ایسا انتظام پریشانیوں میں اضافہ کر سکتا ہے۔ اس لیے بورڈ میں کافی تعداد میں مستقل افرادی قوت دستیاب کرانے کی ضرورت ہے۔
سی بی ایس ای کے امتحانی نظام میں سوالیہ پرچے، امتحانات کا انعقاد اور دیگر طریقۂ کار انتہائی حساس تصور کیے جاتے ہیں۔ کمیٹی کا زور اسی بات پر ہے کہ ایسے کاموں کو سنبھالنے کے لیے کافی تعداد میں مستقل ملازمین ہونے چاہئیں۔ شعبے میں تقریباً 44 فیصد عہدے خالی ہونے کی صورت میں کنٹریکٹ ملازمین کا کردار بڑھنا امتحانی نظام کے لیے چیلنج بن سکتا ہے۔ کمیٹی نے اشارہ دیا ہے کہ امتحانات کی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے افرادی قوت کی کمی دور کرنا ضروری ہے۔
اسٹیمیٹس کمیٹی (تخمینہ کمیٹی) نے ملک میں کفایتی اور معیاری تعلیم سے متعلق اپنی رپورٹ میں صرف امتحانی نظام کا مسئلہ نہیں اٹھایا ہے۔ کمیٹی نے قومی تعلیمی پالیسی یعنی ’این ای پی-2020‘ کے نفاذ کو لے کر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق این ای پی نافذ ہونے کے باوجود 10 ویں سے 12 ویں جماعت میں کئی مقامات پر طلباء کو پرانی کتابوں سے پڑھایا جا رہا ہے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ این ای پی کے مطابق نصاب اور کتابوں میں ضروری تبدیلیاں نہ ہونے کی وجہ سے طلبہ پر پڑھائی کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔
رپورٹ میں امتحانی نظام کو محفوظ اور قابل اعتماد بنانے کے لیے مستقل ملازمین کی مناسب تعداد یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے۔ امتحانی شعبے میں خالی عہدوں کو پر کرنا اور حساس کاموں کے لیے مستقل افرادی قوت بڑھانا اہم قرار دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی تعلیمی نظام میں این ای پی کے مطابق نصاب اور کتابوں میں تبدیلی بھی ضروری ہے۔ ایسے میں سی بی ایس ای کے سامنے امتحانات کی شفافیت برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ ملازمین کی کمی دور کرنے اور تعلیمی نظام کو نئی پالیسی کے مطابق ڈھالنے کا چیلنج ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
