بہار کے موتیہاری میں زہریلی شراب پینے سے 4 افراد کی موت، کئی لوگوں کی بینائی ختم، ایک ملزم گرفتار

نقلی شراب سے بڑی تعداد میں لوگوں کی موت ہونے کے بعد بھی غیر قانونی شراب کاروباریوں کا حوصلہ نہیں ٹوٹ رہا۔

شراب
i
user

قومی آواز بیورو

بہار کے موتیہاری ضلع واقع رگھوناتھ پور تھانہ کے تحت بال گنگا گاؤں میں مبینہ طور پر زہریلی شراب پینے سے 4 افراد کی موت ہو گئی ہے۔ چندو نامی ایک نوجوان کی موت گزشتہ روز زہریلی شراب پینے سے ہوئی تھی، مزید 3 اموات کے بارے میں اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس کی وجہ زہریلی شراب ہی تھی۔ زہریلی شراب کے سبب 3 افراد شدید طور پر بیمار بھی ہوئے ہیں، جنھ کا علاج شہر کے پرائیویٹ اسپتالوں میں جاری ہے۔ ڈاکٹروں نے ان کی آنکھوں کی روشنی جانے کی بات کہی ہے۔

اس سے قبل بھی اس طرح کے سنگین معاملات سامنے آ چکے ہیں۔ رگھوناتھ پور تھانہ کے تحت ہی ایک گاؤں میں تقریباً ڈھائی سال قبل زہریلی شراب نے قہر برپا کیا تھا، جس میں کئی لوگ موت کے منہ میں چلے گئے تھے۔ نقلی شراب سے بڑی تعداد میں لوگوں کی موت کے بعد بھی غیر قانونی شراب کاروباریوں کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔ ایک بار پھر ضلع میں زہریلی شراب کا قہر جاری ہے۔ گزشتہ روز چندو ساہ کی موت ہو گئی، وہ ای رکشہ ڈرائیور تھا۔


میڈیا رپورٹس کے مطابق شدید بیمار لوہا ٹھاکر ایس بی آئی انشورنس میں پرائیویٹ گارڈ کے طور پر کام کرتا تھا۔ لڈو ساہ عرف جتیندر پک اپ گاڑی چلاتا ہے۔ مزید ایک زیر علاج راہل فوٹوگرافر ہے۔ ان تینوں کی آنکھوں کی روشنی چلی گئی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق ان تینوں نے زہریلی شراب کا استعمال کیا ہوگا، کیونکہ ان لوگوں نے بتایا کہ پیٹ میں درد، بے چینی اور آنکھوں سے کم دکھائی دینے کی شکایت ہو رہی تھی۔ ڈاکٹروں نے کہا کہ تینوں نے زہریلا اسپرٹ پیا ہوگا۔

لوہا ٹھاکر کی بیوی کے مطابق شام میں ان کے شوہر گھر آئے اور صبح دیر تک سوتے رہے۔ جب اٹھے تو کہا کہ انہیں کچھ نظر نہیں آ رہا، جس کے بعد فوراً انہیں شہر کے ایک پرائیویٹ نرسنگ ہوم میں علاج کے لیے داخل کرایا گیا۔ کل شام تک 2 افراد کی موت ہو چکی تھی، اسی دوران آج صبح بھی 2 لوگوں کی جان چلی گئی۔ ایسا مانا جا رہا ہے کہ تمام اموات زہریلی شراب پینے کی وجہ سے ہوئی ہیں۔ کل جس چندو نامی شخص کی موت ہوئی تھی، اس کے اہل خانہ نے لاش کا پوسٹ مارٹم نہیں کرایا، جس سے اس کی موت کی اصل وجہ واضح نہیں ہو سکی۔ لیکن اب جو اموات ہو رہی ہیں، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سبھی نے مبینہ طور پر زہریلی شراب کا استعمال کیا تھا۔


دوسری جانب ضلع پولیس کپتان سورن پربھات کا کہنا ہے کہ پولیس ہر زاویے سے تفتیش میں مصروف ہے۔ ایک ایس آئی ٹی تشکیل دی گئی ہے تاکہ موت کی اصل وجہ کا پتہ چلایا جا سکے۔ ان اموات کے بعد پولیس نے تیزی سے چھاپے مار کر کئی شراب کاروباریوں کو گرفتار کر لیا ہے اور مزید کارروائی جاری ہے۔ ساتھ ہی ترکولیا تھانہ میں متوفی پرمود یادو کے اہلِ خانہ کی جانب سے قتل کا مقدمہ درج کرایا گیا ہے۔ پولیس نے اس معاملے کے کلیدی ملزم ناگا رائے کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ شروع کر دی ہے۔ نیز لاپروائی کے الزام میں پرسونا کے چوکیدار بھرت رائے کو معطل کر دیا گیا ہے۔