4 میں سے 3 لوگ چھوڑ دیں گے ’یو پی آئی‘ کا استعمال، پھر لوٹے گا نقد ادائیگی کا دور! سروے میں انکشاف
سروے میں شامل یو پی آئی صارفین میں سے صرف 14 فیصد نے کہا کہ اگر دکاندار 2 ہزار سے زائد کی ادائیگی پر اضافی چارج لیتا ہے تو وہ یو پی آئی سے ادائیگی جاری رکھیں گے اور یہ اضافی رقم خود ادا کریں گے۔

تصور کیجیے آپ کسی دکان پر 5 ہزار کا سامان خریدتے ہیں۔ بل کی ادائیگی کے لیے ہمیشہ کی طرح موبائل نکالا، کیو آر کوڈ اسکین کیا اور پیمنٹ کرنے لگے۔ دکاندار کہہ دے کہ یو پی آئی سے ادائیگی کرنے پر آپ کو الگ سے 20 روپے دینے ہوں گے۔ ایسے میں آپ کے پاس 2 ہی راستے ہوں گے یا تو اضافی رقم دے کر یو پی آئی سے ادائیگی کریں یا پھر نقد، کارڈ یا کسی دوسرے طریقے کا استعمال کریں۔ دراصل یو پی آئی پیمنٹ پر 15 اکتوبر سے نافذ ہو رہے ایم ڈی آر (مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ) کو لے کر اسی طرح کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ نئے نظام کے تحت 2 ہزار سے زائد کے مرچنٹ یو پی آئی پیمنٹ پر 0.4 فیصد ایم ڈی آر نافذ ہوگا۔
حالانکہ حکومت نے واضح طور پر کہا ہے کہ یہ اضافی چارج خریدار سے نہیں لیا جانا چاہیے اور مرچنٹ کو خود یہ خرچ اٹھانا ہوگا۔ لیکن اصل سوال یہیں سے شروع ہوتا ہے کہ اگر دکاندار خود ایم ڈی آر دینے سے منع کر دیں اور خریدار سے الگ سے پیسے مانگیں تو لوگ کیا کریں گے؟ حالیہ ’لوکل سرکلس‘ سروے کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ایسی صورت میں بڑی تعداد میں لوگ یو پی آئی کی جگہ ادائیگی کے دوسرے متبادل پو غور کر سکتے ہیں۔ سروے میں لوگوں سے پوچھا گیا کہ اگر دکاندار 2 ہزار سے زیادہ کی یو پی آئی پیمنٹ پر لگنے والا ایم ڈی آر چارج ان سے دینے کو کہتا ہے تو وہ کیا کریں گے؟ اس سوال کے جواب میں بڑی تعداد میں لوگوں نے نقد، کریڈٹ کارڈ، ڈیبٹ کارڈ یا بینک ٹرانسفر جیسے متبادل پر جانے کی بات کہی۔ ہندی نیوز پورٹل آج تک پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق ’لوکل سرکلس‘ کی جانب سے کیے گئے اس سروے میں 291 اضلاع کے یو پی آئی صارفین سے 67000 سے زائد جواب ملے۔
اس سروے میں شامل یو پی آئی صارفین میں سے صرف 14 فیصد نے کہا کہ اگر دکاندار 2 ہزار سے زائد کی ادائیگی پر اضافی چارج لیتا ہے تو وہ یو پی آئی سے ادائیگی جاری رکھیں گے اور یہ اضافی رقم خود ادا کریں گے۔ 76 فیصد لوگوں نے کہا کہ وہ ادائیگی کے لیے دوسرا طریقہ اپنائیں گے یا خریداری ملتوی کر دیں گے۔ یعنی سروے میں سوالوں کا جواب دینے والے 4 میں سے 3 لوگوں نے مانا کہ اگر دکاندار ایم ڈی آر کا بوجھ ان پر ڈالتے ہیں تو وہ یو پی آئی کو چھوڑ کر نقد، کارڈ یا ادائیگی کے دوسرے متبادل طریقے کا استعمال کریں گے۔ اس سے قبل اگست 2026 کے ایک ’لوکل سرکلس‘ سروے میں 53 فیصد یو پی آئی صارفین نے کہا تھا کہ اگر بڑی خرید پر دکاندار ایم ڈی آر کا بوجھ ان پر ڈالتے ہیں تو وہ یو پی آئی چھوڑ کر دوسرے پیمنٹ موڈ کی طرف منتقل ہو سکتے ہیں۔ ان میں 27 فیصد نے کریڈٹ کارڈ، 14 فیصد نے ڈیبٹ کارڈ اور 12 فیصد نے نقد یا بینک ٹرانسفر کی بات کہی تھی۔
دوسری جانب ’لوکل سرکلس‘ کے 32796 کاروباریوں اور دکانداروں والے سروے میں صرف 17 فیصد نے کہا کہ وہ 0.4 فیصد ایم ڈی آر کا بوجھ خود اٹھانے کو تیار ہیں۔ 41 فیصد نے کہا کہ وہ کوئی ایم ڈی آر نہیں دیں گے، جبکہ 9 فیصد ایسے تھے جو یو پی آئی سے ادائیگی قبول ہی نہیں کرتے۔ 15 فیصد کاروباری صرف 0.04 فیصد تک ایم ڈی آر کا خرچ اٹھانے کو تیار تھے۔ قابل ذکر ہے کہ ایم ڈی آر کا معاملہ اس لیے بھی بڑا ہے کیونکہ یو پی آئی اب چھوٹی ادائیگیوں تک محدود نہیں ہے۔ اگست 2026 میں یو پی آئی پر 24.51 ارب لین دین ہوئے اور ان کی مجموعی رقم تقریباً 29.82 لاکھ کروڑ رہی۔ ان میں دکانداروں کے لیے ادائیگی کی تعداد تقریباً 15.51 ارب اور رقم 8.95 لاکھ کروڑ تھی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
